Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
368 - 415
جُدا ہے اورنیت یہ ہے، کہ انسان کادِل اس کے مطلوبہ اہم مقصد کی طرف بر انگیختہ اور مائل ہو خواہ وہ مقصد فوری ہو یا اس کا تعلق مستقبل سے ہو ،اورجب تک کسی کام کی طرف دِل مائل نہ ہو اس وقت تک بالتکلف نیت فائدہ نہیں دیتی ،بلکہ نیت تب کامل ہو گی جب کہ دل اس چیز کی طرف مکمل طور پر مائل ہو جیساکہ ایک پیٹ بھرا آدمی کہے: ''میں بھوکا رہنے یا بھوک کی وجہ سے کھانے کی نیت کرتا ہوں ۔''یا کوئی( عشق ومحبت سے )خالی دِل والا کہے: ''میں فلاں سے عشق ومحبت اور اس کا احترام کرنے کی نیت کرتا ہوں اور یہ چیز اس کے باطن میں نہ ہوتو یہ محال ہے بلکہ نفس کا اس کام پر بر انگیختہ ہونا اس وقت تک متصو ر نہیں ہوسکتا جب تک اس کا کوئی سبب نہ گزرا ہو کیونکہ دِل کا برا نگیختہ ہونا کسی عرض اور داعی کے جواب میں ہوتاہے، اس کی مثال نکاح ہے کہ جس شخص پر شہوت غالب ہو اور وہ نکاح کا ارادہ کرے پھر وہ باتکلف نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اطاعت ،آپ کی سنت اور نیک اولاد کی نیت کرے تو یہ نیت نہ کہلائے گی کیونکہ اس کے باطن میں نکاح کے یہ اسباب نہیں بلکہ صرف شہوت ہے۔

    بعض اسلاف سے منقول ہے کہ وہ نیت کے نہ ہونے کی وجہ سے بعض عبادات سے رُک جاتے تھے یہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا ابن سیرین علیہ رحمۃ اللہ المتین نے حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی تو فرمایا: ''میری نیت حاضر نہ تھی۔'' عظیم کوفی عالِم حضرت سَیِّدُنا حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا تو حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا: ''آپ ان کے جنازے میں کیوں شریک نہ ہوئے؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''اگر میری نیت حاضر ہوتی تو میں جنازہ پڑھتا۔''

    حضرت سَیِّدُنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نیت کے بغیر کلام نہ کرتے، آپ سے حدیث بیان کرنے کا مطالبہ ہوتا لیکن آپ بیان نہ کرتے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اس بارے میں پوچھا گیا توفرمایا:'' کیاتم چاہتے ہو کہ میں بغیر نیت کے گفتگو کرو ں ؟ جب میری نیت حاضر ہوگی تو کلام کروں گا ،اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی گئی:''ہمارے لئے دعا کیجئے۔''تو آپ نے ارشاد فرمایا: ''جب میری نیت ہو گی تو دعا کرو ں گا۔''
اخلاص کا بیان
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ تقرُّب نشان ہے:
 (1) وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے۔(پ 30 ، البینہ:5)
(2) اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔(پ 23 ، الزمر: 3)

    سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
Flag Counter