Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
366 - 415
 (مصنف عبد الرزاق، کتاب الصیام، باب المرأۃ تصلی ولیس فی رقبتھا۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۷۹۶۳،ج۴،ص۲۴۷،بتقدّمٍ وتأخّرٍ)
نیت کی حقیقت کا بیان:
    جاننا چاہے! نیت ، ارادہ او رقصد مترا دف الفاظ ہیں جو ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں اوریہ ایک قلبی حالت وصفت ہے جسے علم وعمل نے گھیر رکھا ہے، علم اس کے لئے مقدمہ وشرط کی طر ح ہے او رعمل اس کے تابع ہے پس نیت اس ارادے کا نام ہے جو سابقہ علم اور اس کے ساتھ ملحق عمل کے درمیان ہوتا ہے جس سے کسی شئے کو جانا جاتا ہے اور اس سے ارادہ پیدا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے۔

    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے:
نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِہٖ وَنِیَّۃُ الفَاسِقِ شَرٌّمِنْ عَمَلِہٖ۔
ترجمہ: مؤ من کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور فاسق کی نیت اس کے عمل سے بدتر ہے۔
(المعجم الکبیر، الحدیث ۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵، نیۃ الفاسق ۔۔۔۔۔۔الخ: بدلہ: عمل المنافق خیرمن نیتہ)
    اگر عمل بغیرنیت اورنیت بغیرعمل کا آپس میں موازنہ کیاجائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمل کے بغیر صرف نیت بِلانیت عمل سے بہتر ہے، کیونکہ ایسا عمل جس سے پہلے نیت ہو اس کا ثواب اس سابقہ نیت کی وجہ سے ہے لہٰذا نیت بہتر ہے کیونکہ یہ وہ ارادہ ہے جو اصل علم سے پیدا ہوتا ہے اور یہ دل کے زیادہ قریب ہوتا ہے پس ہر حال میں مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جیسا کہ حدیث ِ پاک میں گزرا۔

    جہاں تک اعمال کا تعلق ہے تو وہ گناہ ، عبادات اور مباحات کی طر ف تقسیم ہوتے ہیں ،پس جو چیز فی نفسہٖ گناہ ہے وہ نیتِ عبادت سے عبادت نہیں بنتی۔ اور عبادات میں نیت ضروری ہے کیونکہ عبادت اس وقت تک عبادت نہیں بن سکتی جب تک اس کے ساتھ نیت نہ ہو، پھر دائمی اور اچھی نیت عبادت کے درجہ کو بڑھادیتی ہے ،کیونکہ بعض اوقات ایک فعل تعداد کے اعتبار سے ایک ہی ہوتا ہے لیکن ممکن ہے کہ حُسنِ نیت کی بدولت وہ بہت سی عبادات بن جائے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:'' بے شک جو بندہ مسجد میں بیٹھا، اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دیدار کیا اور جس کی زیارت کی جائے اس پر لازم ہے کہ وہ زیارت کرنے والے کا اِکرام کرے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصلوات، فضل المشی الی المساجد، الحدیث۲۹۴۳،ج۳،ص۸۲) 

(المعجم الکبیر، الحدیث۶۱۴۵، ج۶، ص۲۵۵)
     مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کی نیت کرے ، نماز کے انتظارکی نیت کرے اور نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی ہوتا ہے،مسجد میں اعتکاف کی نیت کرے، اعضاء کو گناہوں سے روکنے اور مسجد کو اپنے لئے پناہ گاہ بنانے کی نیَّت کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر اور قرآنِ حکیم کی تلاوت سننے کی نیت کرے، تویہ سب پے در پے نیکیاں ہیں جنہیں
Flag Counter