Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
365 - 415
باب:37         نیت،اخلاص اور صدق کا بیان

نیت کابیان:
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ نصیحت بنیاد ہے:
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔ (پ 7، الانعام :52)

    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:
''إنَّمَاالْأعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
ترجمہ:اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے۔''
(صحیح البخاری، کتاب بد ء الوحی، باب کیف کان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱،ص۱)
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: ''لوگ چارقسم کے ہیں(ان میں سے دو یہ ہيں ): پہلا وہ شخص جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علم اور مال عطا فرمایا، وہ اپنے علم کے مطابق اپنا مال خرچ کرتا ہے، جبکہ دوسرا شخص کہتاہے :اگر مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فلاں کی مثل عطا کیاہوتا تو میں بھی اس کی طر ح عمل کرتا پس ان دونوں کااجر برابر ہے۔''
 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب النیۃ، الحدیث۴۲۲۸،ص۲۷۳۴)
    حضرت سَیِّدُنا اَحنف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''جب دو مسلمان اپنی تلوارو ں کے ساتھ باہم لڑائی کرتے ہیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔'' عرض کی گئی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ایک تو قاتل ہے ، لیکن مقتول کا کیا قصور ہے؟'' آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''کیونکہ اس نے اپنے مدِّمقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔''
 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الفتن، باب اذا إلتقی المسلمان بسیفہما، الحدیث۳۹۶۴، ص۲۷۱۵)
     حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے: '' جو شخص غیر اللہ کے لئے خوشبو لگاتاہے وہ بروزِ قیامت یوں آئے گا کہ اس کی بدبو مردار سے بھی زیادہ ہوگی، او ر جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے خوشبو لگاتاہے وہ بروزِقیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کی خوشبو کستو ری سے زیادہ مہک رہی ہوگی۔''
Flag Counter