| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے تین سوا خلاق ہیں،جو شخص توحید پر ہوتے ہوئے، ان میں سے ایک خلق کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کریگا وہ داخلِ جنت ہو گا۔'' امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ''کیا اُن میں سے کوئی خلق مجھ میں بھی ہے؟'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
کُلُّھَا فِیْکَ یَا أبَابَکْرٍ وَأحَبُّھَا إلٰی اللہِ تَعَالٰی السَّخَاءُ۔
ترجمہ:اے ابو بکر ! وہ تمام اخلاق تم میں پائے جاتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ خلق سخاوت ہے۔
(مکارم الأخلاق لابن ابی الدنیا، الحدیث:۲۹،ص۳۴۔۳۵، مختصراً،بتغیرٍ)
حضورنبئ کریم ،ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے:''میں نے ایک ترازو دیکھا جوآسمان سے لٹکایا گیا، اس کے ایک پلڑے میں مجھے اور دو سرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیاتو میرا پلڑا بھاری ہو گیا پھر ایک پلڑے میں میری امت کو اور دوسرے پلڑے میں ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رکھا گیاتو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پلڑا بھاری ہوگیا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث ابی بکرۃ نفیع بن الحارث بن کلدۃ، الحدیث۲۹۵۲۸،ج۷، ص۳۳۲۔۳ ۳۳) (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ الباھلی، الحدیث۲۲۲۹۵،ج۸،ص۲۸۹۔۲۹۰)
ان سب با تو ں کے با وجودنبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات میں اس قدرمستغرق رہتے ،کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دل میں کسی اورکوخلیل بنانے کی گنجائش نہ تھی اسی لئے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اگرمیں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا،توابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخلیل بنا تا لیکن تمہار ا دوست (یعنی نبی ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خلیل ہے۔''
(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق، الحدیث۶۱۷۶، ص۱۰۹۸)
حضرت سَیِّدُنا شبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:'' محبت لذَّت میں دہشت اورتعظیم میں حیرت کا نام ہے۔''
مزید فرماتے ہیں:'' عشق ومحبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آگ ہے جسے وہ اپنے اولیا ء کرام علیہم الرحمۃ کے دلوں میں بھڑکاتا ہے حتی کہ اس کی وجہ سے ان کے دلوں کے خیالات، ارادے ، حاجات اور عوارض سب کچھ جل جاتا ہے۔''
اس بات کو سمجھ لو فائدہ ہوگا ۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔