| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان ِعالیشان ہے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:'' بندہ نفلی عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتاہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔''
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، الحدیث۶۵۰۲،ص۵۴۵)
اللہ عَزَّوَجَل کی بندے سے محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ سے وحشت محسوس کرتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے اور تمام اسباب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّمَ کافرمانِ ذیشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے محبت کرتاہے تو اسے آزمائش میں ڈال دیتا ہے اور جب اس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے تو اس کو چن لیتا ہے۔'' پوچھا گیا: ''چننے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا: اس کا مال اور اولاد نہیں چھوڑتا۔''(فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث۹۷۳،ج۱،ص۱۵۱)
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام سے پوچھا گیا : ''آپ اپنی سواری کے لئے دراز گو ش(یعنی گدھا) کیوں نہیں خرید لیتے؟''توآپ علیہ السلام نے فرمایا:''مجھ پر یہ بات شاق گزرے گی، کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میری توجہ اپنی ذات سے ہٹا کر درازگوش میں مشغول کردے۔''حدیث ِ پاک میں ہے:
إذَا أحَبَّ اللہُ عَبْدًا إبْتَلَاہ،، فَإنْ صَبَرَ إجْتَبَاہ،، وَإنْ رَضِیَ إصْطَفَاہ،۔
ترجمہ:جب اللہ عَزَّوَجَل کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے پس اگر وہ صبر کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے چن لیتا ہے اور راضی ہو تو اسے منتخب فرمالیتا ہے۔
(فردوس الاخبار للدیلمی، باب الالف، الحدیث۹۷۶،ج۱،ص۱۵۱)
علماء کرام فرماتے ہیں: ''بندے کی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سے محبت کرتا ہے بندہ اسے اپنی محبوب ترین چیزپرترجیح دیتا ہے اوربکثرت اس کا ذکر کرتا ہے، اس میں کوتا ہی نہیں کرتا اور کسی دو سرے کام میں مشغول ہونے کے بجائے بندے کو تنہائی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مناجات کرنا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔''
فضیلتِ رضا کابیان:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ اُن سے راضی اور و اللہ سے راضی۔(پ7 ، المآئدۃ: 119)