Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
362 - 415
    حدیث شریف میں ہے :
إنَّ اللہَ تَعَالٰی یَتَجَلَّی لِلْمُؤْمِنِیْنَ فَیَقُوْلُ سَلُوْنِیْ فَیَقُوْلُوْنَ: رِضَاکَ ۔
ترجمہ:بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ مؤمنوں پرتجلی فرماکر ارشاد فرمائے گا: مجھ سے سوال کرو تو وہ عر ض کریں گے:ہم تیری رضا کے طلب گار ہیں۔
(المعجم الاوسط، الحدیث۲۰۸۴،ج۱،ص۵۶۶، بتغیرٍ)
    پس دیدار کے بعدرِضا کا سوال کرنا بہت بڑی فضیلت ہے۔

    حدیث ِ پاک میں ہے، اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت سے استفسار فرمایا:'' تم کون ہو؟''انہوں نے عرض کی: ''ہم مؤمن ہیں۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پھرپوچھا: ''تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے ؟'' انہوں نے عرض کی:'' ہم آزمائش پرصبر کرتے ہیں ، فرا خی میں شکر ادا کرتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلوں پر راضی رہتے ہیں۔''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ربّ ِکعبہ کی قسم ! تم مؤمن ہو۔''
    (المعجم الاوسط، الحدیث۹۴۲۷،ج۶،ص۵۶۷، بتغیرٍ)
    ایک دوسری روایت میں ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حکمت نشان ہے: '' قریب تھا کہ حکماء ،علماء اپنی فقہ(یعنی سمجھ بوجھ) کی بدولت انبیاء ہوتے۔
 (الزھد الکبیر للبیھقی، الحدیث۹۷۰،ص۳۵۴،حکماء علماء:بدلھما:فقھاء حلماء)
    حضرت سَیِّدُنا موسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! کسی ایسے کام پر میری رہنمائی فرما، جس میں تیری رضا ہو،تاکہ میں وہ کام کروں۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ''میری رضا اس میں ہے جو تمہیں ناپسند ہو اورتم ناپسندیدہ چیز کو برداشت نہیں کرسکتے۔'' آپ علیہ السلام نے عرض کی: ''اے میرے ر ب عَزَّوَجَلَّ! اس پر میری رہنمائی فرما۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''میری رضا اس میں ہے کہ تم میرے فیصلے پر راضی رہو۔''

    یاد رکھو!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا بہت بڑا دروازہ ہے جو اس کی طر ف راہ پالیتا ہے وہ اعلیٰ درجے پر فائز ہوجاتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے والا مرید:
    حضرت سَیِّدُنا ابو تراب نَخْشَبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ایک مریدکو بہت پسند فرماتے تھے، چنا نچہ آپ اسے اپنے قریب رکھا کرتے اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے اور مرید اپنی عبادت ووجد میں مشغول رہتا، ایک دن حضرت سَیِّدُناابوتراب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے پوچھا: ''تمہيں حضرت سَیِّدُنا با یزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کرنی چاہے۔'' مریدنے کہا: ''مجھے اُن
Flag Counter