| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتاہے ستھروں کو ۔(پ 2، البقرہ :222)
اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو مرنے سے پہلے اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے پس اس کے گذشتہ گناہ نقصان نہیں دیتے اگر چہ کثیر ہوں جس طر ح اسلام قبول کرنے والے کو گذشتہ کفر نقصان نہیں دیتا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے محبت کے لئے گناہوں کی بخشش کا ذکر فرمایا: ارشاد خداوندی ہے :یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تمہیں دو ست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔(پ3، اٰل عمران:31)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:إنَّ اللہَ یُعْطِی الدُّنْیَا لِمَنْ یُّحِبُّ وَلِمَنْ لَّا یُحِبُّ، وَلَا یُعْطِی الْاِیْمَانَ إلَّا لِمَنْ یُّحِبُّ۔
ترجمہ: بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیا اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتاہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا لیکن ایمان صرف اُسے عطا فرماتا ہے جس سے محبت کرتا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب کلام ابن مسعود، الحدیث۳۰،ج۸،ص۱۶۱)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال،بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ رفعت نشان ہے:''جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تو اضع اختیار کر تا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتاہے اور جو تکبر کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے پست کردیتاہے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کوکثرت سے یا د کرتا ہے تو وہ اس سے محبت فرماتا ہے۔
(المعجم الأوسط، الحدیث۴۸۹۴،ج۳،ص۳۸۲) (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب التواضع والخمول، الحدیث۷۷،ج۳،ص۵۵۲)
حدیثِ قدسی میں ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
فَإذَا أَحْبَبْتُہ، کُنْتُ سَمْعَہ، الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ۔
ترجمہ:جب میں اپنے بندے سے محبت کرتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، الحدیث۶۵۰۲،ص۵۴۵)
حضرت سَیِّدُنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے سے محبت کرتا ہے حتی کہ وہ محبتِ الٰہی میں اس مقام تک جا پہنچتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:'' تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔''