Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
359 - 415
خواہش کو میرے لئے ترک کردو۔ میں نے اپنی مخلوق میں سے کمزور لوگو ں کے لئے خواہش کو جائز قرار دیا، مگرقوی و طاقتور لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ خواہشات کرتے ہیں کیونکہ یہ میری بارگاہ میں کی جانے والی مناجات کی حلاوت کو کم کردیتی ہیں، اور قوی وطاقتور لوگ خواہشات کریں،تو میر ی طرف سے ان کی ادنیٰ سزا یہ ہے کہ میں اُن کی عقلوں پر اپنی طرف سے حجاب ڈال دو ں گا، کیونکہ میں دنیا اور اس کی تر و تا زگی کو اپنے محبوب بندو ں کے لئے پسند نہیں کرتا۔ اے داؤ د (علیہ السلام)! میرے اور اپنے درمیان کسی ایسے عالِم کو ذریعہ نہ بنانا جسے دنیا کی محبت نے مدہوش کردیا ہو، وہ اپنے نشے کے با عث تجھے میرے حجابِ محبت سے دورکردے گا، یہ لوگ میرے مریدوں کے لئے راہزن ہیں اورخواہشات ترک کرنے کے لئے ہمیشہ روزہ رکھ کر مدد حاصل کرو، رو زے کو کبھی نہ چھوڑنا کیونکہ میں دائمی رو زے کو پسند کرتا ہوں۔''

    ''اے داؤ د(علیہ السلام)!اپنے نفس سے دُشمنی کر کے میرے محبوب بنو اور اپنے نفس کو شہوات سے روکو، تاکہ میں تمہاری طرف نظرِ رحمت فرماؤں۔ دیکھو! میرے اورتمہارے درمیان پردے اُٹھ گئے ہیں، میں تمہاری خاطر مدارت اس لئے کر رہاہوں کہ جب میں تم پر ثواب کا احسان کرو ں تو تم میرے ثواب پر قوت حاصل کرو اور اگر تم میری اطاعت کرتے رہوتو میں ہر گز اپنا احسان تم سے نہ روکوں گا۔'' 

    یہ روایات عشق ومحبت کے ممکن ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
بندے کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت کا بیان:
 (1) اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا(صف) باندھ کر۔ (پ 28 ،الصف:4)
 (2) اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ ﴿222﴾
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتاہے ستھروں کو ۔ (پ 2، البقرہ :222)

    حضرت سَیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: '' جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتااور گناہ سے تو بہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیاہی نہیں۔
      (فردوس الاخبار للدیلمی ،باب التاء ،الحدیث۲۲۵۱،ج۱،ص۳۰۸)
     پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
اس بات پر آیات واحادیث دلالت کرتی ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
Flag Counter