خواہش کو میرے لئے ترک کردو۔ میں نے اپنی مخلوق میں سے کمزور لوگو ں کے لئے خواہش کو جائز قرار دیا، مگرقوی و طاقتور لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ خواہشات کرتے ہیں کیونکہ یہ میری بارگاہ میں کی جانے والی مناجات کی حلاوت کو کم کردیتی ہیں، اور قوی وطاقتور لوگ خواہشات کریں،تو میر ی طرف سے ان کی ادنیٰ سزا یہ ہے کہ میں اُن کی عقلوں پر اپنی طرف سے حجاب ڈال دو ں گا، کیونکہ میں دنیا اور اس کی تر و تا زگی کو اپنے محبوب بندو ں کے لئے پسند نہیں کرتا۔ اے داؤ د (علیہ السلام)! میرے اور اپنے درمیان کسی ایسے عالِم کو ذریعہ نہ بنانا جسے دنیا کی محبت نے مدہوش کردیا ہو، وہ اپنے نشے کے با عث تجھے میرے حجابِ محبت سے دورکردے گا، یہ لوگ میرے مریدوں کے لئے راہزن ہیں اورخواہشات ترک کرنے کے لئے ہمیشہ روزہ رکھ کر مدد حاصل کرو، رو زے کو کبھی نہ چھوڑنا کیونکہ میں دائمی رو زے کو پسند کرتا ہوں۔''
''اے داؤ د(علیہ السلام)!اپنے نفس سے دُشمنی کر کے میرے محبوب بنو اور اپنے نفس کو شہوات سے روکو، تاکہ میں تمہاری طرف نظرِ رحمت فرماؤں۔ دیکھو! میرے اورتمہارے درمیان پردے اُٹھ گئے ہیں، میں تمہاری خاطر مدارت اس لئے کر رہاہوں کہ جب میں تم پر ثواب کا احسان کرو ں تو تم میرے ثواب پر قوت حاصل کرو اور اگر تم میری اطاعت کرتے رہوتو میں ہر گز اپنا احسان تم سے نہ روکوں گا۔''
یہ روایات عشق ومحبت کے ممکن ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔