Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
35 - 415
تک اس کی راہ نہیں مل سکتی جب تک تو اس کی طلب میں حریص نہ ہو۔
بہترین علم:
    جاننا چاہے کہ بہترین علم وہ ہے جس کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرناہواور یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی معلوم نہیں اور اس میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کاہے پھر اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

    منقول ہے کہ پہلے کے دوداناشخصوں کے پاس دوایسی تحریریں پائی گئیں جن میں سے ایک یہ تھی: ''اگر تم مکمل طور پر نیکی کر لو تو یہ گمان نہ کرو کہ تم نے کچھ نیکی کی ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل نہ ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو جائے کہ وہی مسبِّب الاسباب اور تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے۔'' اور دوسری میں یہ لکھا ہوا تھا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل ہونے سے پہلے میں پانی پیتا تھا مگر پھر بھی پیاسا رہتا تھا لیکن جب مجھے اس کی معرفت حاصل ہوگئی تو میں کوئی چیز پئے بغیر بھی سیراب رہتا ہوں۔''

     ساتواں ادب:طالب علم کامقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو ان چیزوں سے آراستہ کرے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور مقربین میں سے ملاء اعلیٰ(یعنی عالمِ ارواح) کے قریب لے جاتی ہوں اور اپنے علم و فضل سے حکومت، مال اور مرتبہ کی خواہش نہ کرے۔
استاذ کے آداب:
    استاذ کی خوبیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جس نے علم حاصل کیا اور اس پر عمل کیا وہ ایسا شخص ہے جسے ملکوت سماوی میں عظیم کہا جاتا ہے اسے چاہے کہ وہ اس سوئی کی طرح نہ ہو جو دوسروں کے لباس تو سیتی ہے مگر خود ننگی رہتی ہے یا اس چراغ کی بتی کی طرح نہ ہو جو دوسروں کوتو روشن کرتی ہے مگر خود جَل جاتی ہے۔جیسے کہا گیاہے:
صِرْتُ کَأَنِّیْ ذُبَالَۃٌ نُصِبَتْ		تَضَیئُ لِلنَّاسِ وَہِیَ تَحْتَرِقُ
    ترجمہ:میں چراغ میں لگائی ہوئی بتی کی طرح ہو گیا جو لوگوں کو تو روشن کرتی ہے مگر خود جل جاتی ہے۔

    تعلیم دینے میں مشغول ہونے والا بہت بھاری ذمہ داری اٹھاتا ہے لہٰذا اسے چاہے کہ وہ اس کے آداب و شرائط کو یاد رکھے۔

    پہلاادب:طلباء پر شفقت کرے اور انہیں اپنی اولاد کی طرح سمجھے۔چنانچہ،

     حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ و صلِّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں تمہارے لئے اس طرح ہوں جیسے والد اپنی اولاد کے لئے ہوتا ہے۔''
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب الطھارۃ ، باب الاستنجاء بالحجار ۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۱۳،ص۲۴۹۶)
Flag Counter