جاننا چاہے کہ بہترین علم وہ ہے جس کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل کرناہواور یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی معلوم نہیں اور اس میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کاہے پھر اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
منقول ہے کہ پہلے کے دوداناشخصوں کے پاس دوایسی تحریریں پائی گئیں جن میں سے ایک یہ تھی: ''اگر تم مکمل طور پر نیکی کر لو تو یہ گمان نہ کرو کہ تم نے کچھ نیکی کی ہے جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل نہ ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو جائے کہ وہی مسبِّب الاسباب اور تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے۔'' اور دوسری میں یہ لکھا ہوا تھا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل ہونے سے پہلے میں پانی پیتا تھا مگر پھر بھی پیاسا رہتا تھا لیکن جب مجھے اس کی معرفت حاصل ہوگئی تو میں کوئی چیز پئے بغیر بھی سیراب رہتا ہوں۔''
ساتواں ادب:طالب علم کامقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو ان چیزوں سے آراستہ کرے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور مقربین میں سے ملاء اعلیٰ(یعنی عالمِ ارواح) کے قریب لے جاتی ہوں اور اپنے علم و فضل سے حکومت، مال اور مرتبہ کی خواہش نہ کرے۔