Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
358 - 415
فرمائی: ''تمہارا گمان ہے کہ تم مجھ سے محبت کر تے ہو، اگر تمہیں واقعی مجھ سے محبت ہے، تو اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دو کیونکہ میری محبت اور دنیا کی محبت ایک دل میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں ۔اے داؤ د (علیہ السلام)! مجھ سے خالِص محبت کرو اور دنیا والوں سے میل جول رکھو ،لیکن دین کے معاملے میں میری اطاعت کرو،لوگو ں کی اطاعت نہ کرنا البتہ! ان کی جوبات میری محبت کے موافق ہو اسے اختیار کرواورجو بات مشتبہ ہو تو اسے میرے حوالے کردو،میرے ذمۂ کرم پرہے کہ میں تمہارے امور کی تدبیر اور ان کی پختگی میں جلدی کروں، میں تمہارا قائدورہنما بنوں، تمہیں بن مانگے عطا کروں اور مشکلات میں تمہاری مدد کرو ں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ صرف اسی بندے کو ثواب عطا کروں گا ،جس کے اِرادہ و طلب کو آزما لوں کہ وہ میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اور مجھ سے بے نیازی اختیار نہیں کرتا، جب تم ایسے ہو جاؤگے تو میں تم سے وحشت کو دور کرکے تمہارے دِ ل کو غنی کردو ں گا۔''

    میں نے قسم کھائی ہے کہ میرا جو بندہ اپنے نفس پر مطمئن ہوکر اپنے افعال کو دیکھتا ہے تو میں اسے اس کے سپرد کر دیتا ہوں اور اشیاء کی نسبت میری طرف کرو اور اپنے اعمال میں تضاد نہ آنے دو، ورنہ تم مشقت میں پڑجاؤ گے اور نہ تمہارے دوست تم سے نفع اٹھائیں گے اور نہ میری معرفت کی کوئی حد پاسکوگے، جس کی کوئی اِنتہاء نہیں، جب تم مجھ سے زیادہ مانگو، تو میں تمہیں زیادہ عطا کروں گا اور میرے زیادہ کی کوئی حد نہ پاؤ گے، پھر بنی اسرائیل کو خبردو کہ میرے اورمیری مخلوق کے درمیان کوئی نسبی رشتہ نہیں، لہٰذا ان کی رغبت اوراِرادہ اسی میں ہونا چاہے جو میرے پاس ہے تاکہ میں ان کو وہ چیزعطا کروں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کا ن نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا۔ہر وقت مجھے اپنے سامنے خیال کرو اور دل کی نظر سے میری طرف دیکھو ،ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جن کے دل میری محبت سے خالی ہیں۔''

    ''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم:میں اس شخص کے لئے ثواب کا دروازہ نہیں کھولوں گا، جومیری اطاعت تجربے یاٹال مٹول کے طور پر کرتا ہے۔ اے داؤ د (علیہ السلام)! تم جنہیں سکھاؤ ان کے لئے تو اضع اختیار کرو اور مریدوں پر زیادتی نہ کرو، اگر اہلِ محبت کو علم ہوجائے کہ مرید وں کا میرے نزدیک کیا مقام ہے تو وہ ان کے لئے زمین بن جائیں تاکہ وہ ان پر چلیں۔ اے داؤد (علیہ السلام)! اگر تم کسی مرید کو نشہ سے نکال کر پاک صاف کردو، تویہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور میں تمہیں کھرا کھوٹا پرکھنے والا لکھ دوں گا اور جسے میں کھرا کھوٹا پرکھنے والا لکھ دوں اس سے وحشت کو دور کردیتا ہوں اور وہ مخلوق کا محتاج نہیں رہتا۔''

    ''اے داؤ د (علیہ السلام)! میرے کلام کو مضبو طی سے تھامے رکھو، اور اپنے نفس کے ذریعے اپنی آخرت کے لئے تیاری کرو اور اس میں ہر گز کو تاہی نہ کرو ، ورنہ میں اپنی محبت کو تم سے چھپا دوں گا، میرے بندو ں کو میری رحمت سے ناامید نہ کرو اور اپنی