'' حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! یہ لوگ کس طر ح اس درجے کو پہنچے؟''
تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''انہوں نے حُسنِ ظن اختیار کیا ، دنیا اور دنیاداروں سے کنارہ کشی کر کے میرے لئے خلوت اختیار کی اور مجھ سے مناجات کر تے رہے۔اوراس منزل کو وہی شخص پاسکتا ہے جو دنیا او ردنیا دارو ں کو چھوڑ دے اور ان کے بارے میں گفتگو ہی نہ کرے اور میرے لئے اپنے دل کو(دنیاوی فکروں سے) خالی کر لے اور جب وہ مجھے تمام مخلوق کے مقابلے میں اختیار کرتا ہے تو میں اس پر لطف و کرم فرماتا ہوں، اس کے نفس کو فا رغ کر دیتا ہوں، اپنے اوراس کے درمیان حجاب اٹھا دیتا ہوں یہاں تک کہ وہ مجھے اس طر ح دیکھتا ہے جس طر ح کوئی شخص کسی چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے نورِ ذات کے قریب کر لیتاہوں، اگر وہ بیمار ہوجائے تو اس کی تیمار داری اس طر ح کرتا ہوں جس طر ح شفیق ماں اپنے بیٹے کی کرتی ہے، اگر وہ پیاسا ہو تو اسے سیراب کرتا ہوں، اسے اپنے ذکر کا مزہ چکھا تا ہوں۔
اے داؤ د (علیہ السلام)!جب میں اس کے ساتھ اس طرح کامعاملہ کرتاہوں، تو اس کا نفس دنیا اور اہلِ دنیا کی طرف نہیں دیکھتا او رمیں دنیا کو اس کی نظر میں محبوب نہیں بناتا۔ وہ میری ذات میں مشغول ہونے سے نہیں اُکتاتا اور وہ میری طر ف جلدی آنا چاہتاہے، لیکن میں اسے موت دینے کو پسند نہیں کرتا،کیونکہ وہ میری مخلوق میں میری نظرِ ( رحمت)کا مقام ہے۔وہ میرے علاوہ کسی کو نہیں دیکھتا اور میں بھی اس کے سواکسی کو نہیں دیکھتا۔
اے داؤ د(علیہ السلام)! اگر تم اسے دیکھو، تو اسے لاغر جسم، ٹوٹے ہوئے نفس اورٹوٹے ہوئے اعضاء والا پاؤگے،اور جب وہ میرا ذکر سنتا ہے ،تو اس کا دل ٹھکانے پر نہیں رہتا،میں فر شتوں اور آسمان والوں کے سامنے اس پر فخر کرتاہوں تو اس کاخوف اور عبادت بڑھ جاتی ہے۔
اے داؤ د (علیہ السلام)! مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! میں اسے جنت الفر دو س میں بٹھاؤ ں گا او راپنے دیدار سے اس کے سینے کو شفاء عطا فرماؤں گایہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے، بلکہ رضا سے بھی اوپر کا مقام حاصل ہوجائے۔''
حضرت سَیِّدُنا داؤدعلی نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی روایات میں یہ بھی ہے کہ میرے ان بندو ں سے فرمادو جو محبت کے ساتھ میری طرف متو جہ ہیں ِکہ اگر تم میری مخلوق سے پوشیدہ رہو تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ اورمیں اپنے اور تمہارے درمیان سے پردے اٹھا دوں تاکہ تم دل کی آنکھوں سے میرا دیدار کر لو، اگر میں تم سے دنیا کو لپیٹ دو ں اور تم پر اپنا احسان عام کر دوں، تو دنیا تمہیں کیا نقصان دے گی ؟اور اگر تم میری رضاکے طالب ہو تو مخلوق کی ناراضگی تمہیں کیا نقصان دے گی؟''
حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کے واقعات میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی