دو سرے نے عرض کی:'' (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!) تو پاک ہے، تو پاک ہے، ہم تیرے بندے اور تیرے بندو ں کی اولاد ہیں، ہمارے اور تیرے درمیان جو معاملہ ہے اس میں ہم پر نظرِ رحمت فرما۔''
تیسرے نے کہا:'' (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ)تیری ذات پاک ہے، تیری ذات پاک ہے، ہم تیرے بندے اور تیرے بندوں کی اولاد ہیں، کیا ہم دعا کی جرأ ت کریں حالانکہ تو جانتاہے کہ ہمیں کسی چیز کی حاجت نہیں، تو ہمیں ہمیشہ اپنی راہ پر رکھ اور یہ احسان ہم پر مکمل فرما۔''
چوتھے نے عرض کی:'' تو نے ہمیں مادہ منویہ سے پیدا فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا کہ ہم تیری عظمت میں غور وفکر کر سکیں تو جو شخص تیری عظمت میں مشغول ہو ،تیرے جلال میں غور وفکر کرنے والا ہو، کیا وہ کلام کی جرأ ت کر سکتا ہے ؟ ہم تو تیرے نُور کا قرب مانگتے ہیں ۔''
پانچو یں نے کہا:'' ہماری زبانیں تجھ سے دعا کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں کیونکہ تیری شان عظیم ہے ، تو اپنے اولیاء کے قریب ہے اور اہلِ محبت پر تیرے بے شمار احسانات ہیں۔ ''
چھٹے نے کہا :''تو نے ہمارے دلوں کو اپنے ذکر کی ہدایت عطا فرمائی اور اپنی ذات میں مشغولیت کے لئے ہمیں فراغت عطا فرمائی ،پس تیرا شکر ادا کرنے میں ہماری کوتاہی کو معاف فرما۔''
ساتو یں نے کہا:''تو جانتاہے کہ ہماری حاجت فقط تیری ذاتِ اقدس کادیدار کرناہے۔''
آٹھویں نے کہا:''(اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !)تو نے ہمیں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور ہم پر جو فضل کیا ہے ہم ان کی تکمیل کا سوال کرتے ہیں۔''
نویں نے کہا: ''ہمیں تیری مخلوق سے کسی قسم کی حاجت نہیں ہے، تو ہمیں صرف اپنے دیدار کی دولت عطا فرما۔''
دسویں نے کہا:'' تومجھے دنیا اور دنیا دارو ں کو دیکھنے سے نابیناکردے اور میرے دل کو آخرت میں مشغول فرما۔''
گیارہویں نے کہا:'' میں نے جان لیا کہ تیری ذات بابر کت اور بلند شان والی ہے تو اپنے اولیا ء سے محبت کرتا ہے پس توہم پر یوں احسان فرما کہ ہمارا دل ہر چیز سے بے نیا ز ہو کر صرف تیری ذات میں مشغول ہوجائے۔''
اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طر ف وحی فرمائی کہ میری طرف سے انہیں فرما دو: ''میں نے تمہارا کلام سنا اور جو کچھ تمہیں پسند ہے اسے قبول کیا پس تم میں سے ہر ایک اپنے رفیق سے جدا ہوجائے اور اپنے لئے زمین میں سرنگ بنالے کیونکہ میں اپنے اور تمہارے درمیان سے پر دہ اٹھانے والا ہوں تا کہ تم میرے نور اورجمال کو دیکھ سکو۔