سے وہ مجھے دیکھتے ہیں اور ان کے دلوں کو اپنے دستِ قدرت سے اٹھا کر اپنے آسمان پررکھ دیتا ہوں، پھر اپنے مقرَّب فرشتو ں کو بُلا تا ہوں،جب وہ جمع ہوجاتے ہیں تو مجھے سجدہ کرتے ہیں،میں کہتاہوں :میں نے تمہیں اس لئے نہیں بلایا کہ مجھے سجدہ کر و، بلکہ اس لئے بلایاہے ،کہ تمہارے سامنے اپنے مشتاق بندو ں کے دِل رکھوں اور ان اہلِ شوق کے با عث فخر کروں،ان کے دل میرے آسمان میں فر شتو ں کو اس طر ح منوّر کرتے ہیں، جس طر ح زمین والوں کو سورج روشنی دیتا ہے۔
اے داؤد !میں نے مشتاق لوگو ں کے دِلوں کو اپنی رضا سے بنایا اور اپنی ذاتِ اقدس کے نور سے ان کو زینت بخشی اور ان کو میرے لئے بات کرنے والا بنایا اور ان کے بدنوں کو زمین میں اپنی نگاہِ کرم کا مرکز بنایا ،نیز ان کے دلوں میں ایک راستہ بنایا جس کے ذریعے وہ مجھے دیکھتے اور روز بروز اُن کا شو ق بڑھتا جاتا ہے۔''
حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اپنے محبین کادیدار کرا دے ۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ''اے داؤد علیہ السلام لبنا ن کے پہاڑ میں جاؤ ،وہاں چو دہ آدمی ہیں،جن میں نوجوان بھی ہیں، بوڑھے بھی اور اُدھیڑ عمر بھی۔ جب ان کے پاس جاؤ تو انہیں میرا سلام کہنااور ان سے کہناکہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ تمہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے :''کیا تم اپنی حاجت کا سوال نہیں کرتے ؟تم تو میرے محبوب اور پسندیدہ دوست ہو، میں تمہاری خوشی پر خوش ہوتا اور تمہاری محبت کے لئے جلدی کرتا ہوں ،چنا نچہ حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام ان کے پاس تشریف لے گئے ،تو ان کو ایک چشمے کے پا س پایا، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت میں غور وفکر کر رہے تھے۔ جب انہوں نے حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کو دیکھا ،تو ان سے دور ہونے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا: ''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں اور تمہارے پاس اُس کا پیغام لے کر آیا ہوں۔'' چنانچہ وہ آپ کی طر ف متوجہ ہو ئے اور آپ علیہ السلام کی بات توجہ سے سننے لگے نیز انہوں نے اپنی نگاہوں کو جھکالیا۔
حضرت سَیِّدُنا داؤد علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا:''میں تمہاری طر ف اللہ عَزَّوَجَلَّ کا پیغام لے کر آیاہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں سلام بھیجتاہے اور استفسار فرماتا ہے،کیا تم مجھ سے اپنی حاجت کا سوال نہیں کرتے ؟ کیا تم مجھے نہیں پکارتے کہ میں تمہاری آواز اور تمہارا کلام سنو ں اور میں ہر گھڑی تمہاری طر ف شفیق مہربان ماں کی طرح دیکھتا ہوں ؟آپ علیہ السلام فرماتے ہیں(یہ سن کر) ان کے آنسو رُخساروں پر بہنے لگے۔''
ان کے شیخ نے کہا:''(اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!) تو پاک ہے ، تو پاک ہے، ہم تیرے بندے اور تیرے بندو ں کی اولاد ہیں، ہماری گذشتہ عمر میں ہمارے دلوں سے تیرے ذکر میں جو کوتاہی ہوئی ہے اسے معاف فرمادے۔ ''