Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
354 - 415
بڑھتا۔ جس نے سچی طلب کے ساتھ مجھے تلاش کیا ،اس نے مجھے پالیا اور جس نے میرے غیر کو تلاش کیا وہ مجھے نہیں پا سکتا۔

     اے زمین والو! تم جس دھوکے میں ہو، ا سے چھوڑ دو، میرے کرم اور دوستی کی طرف بڑھو ،مجھ سے اُنس حاصل کر ومیں تم سے اُنس کروں گا اور تمہاری محبت کی طرف جلدی کرو ں گا، میں نے اپنے دوستو ں کا خمیراپنے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام)، اپنے ہم کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اپنے منتخب بندے حضرت محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کے خمیرسے پیدا کیا ہے، بے شک میں نے مشتا ق لوگو ں کے دِلوں کو اپنے نُور سے پیدا فرمایا اور اپنے جلال سے ان کو لطف اندوز کیا۔''

    بعض اسلاف سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے کسی صدیق بندے کی طر ف الہام فرمایا: ''میرے کچھ بندے مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں ان سے محبت کرتا ہوں، وہ میرے مشتا ق اور میں ان کامشتا ق ہوں، وہ مجھے یا د کرتے اورمیں انہیں یاد کرتا ہوں، وہ مجھے دیکھتے اورمیں انہیں دیکھتا ہوں، اگر تُوان کے طریقے پر چلے ،تو میں تجھ سے محبت کرو ں گا اور اگر ان کی راہ سے رو گردانی کریگا ،تومیں تجھ سے ناراض ہوں گا۔'' اس نے پوچھا: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! ان کی علامات کیا ہیں؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ''وہ دِن کے وقت سائے کو یوں دیکھتے ہیں، جس طر ح شفیق چرواہا اپنی بکریوں کو دیکھتا ہے اور غرو بِ آفتاب کے اس طر ح مشتا ق ہوتے ہیں جیسے پرندے مغرب کے وقت اپنے گھونسلے کا مشتاق ہوتے ہیں اورجب اندھیراچھا جاتا ہے ،بستربچھ جاتے ہیں، تخت لگا دئیے جاتے ہيں اور ہرمحب اپنے محبوب سے تنہائی اختیارکرلیتا ہے تووہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوجاتے ہیں، میری بارگاہ میں اپنی پیشانیاں بِچھادیتے ہیں،میرے کلام کے ساتھ مجھ سے سر گو شی کرتے ہیں اور میرے انعام کے باعث میری تعریف کرتے ہیں، کوئی چیختا تو کوئی روتا ہے، کوئی آہیں بھرتاتو کوئی شکایت کرتا ہے، کوئی قیام میں ہے تو کوئی قعدہ میں،کوئی حالتِ رکوع میں ہے تو کوئی سجدہ کر رہا ہے، وہ میری رضا کے حصول کے لئے جو مشقت اٹھاتے ہیں میں اسے دیکھتا ہوں اورمیری محبت میں جوشکایت کرتے ہیں میں اُسے سنتاہوں، میں انہیں پہلے تین اِنعام عطا فرماتاہوں:

(۱ )۔۔۔۔۔۔اپنا نُور ان کے دل میں ڈالتا ہوں، تو وہ میرے بارے میں ایسے ہی خبر دیتے ہوں جیسے میں ان کے بارے میں خبردیتا ہوں، (۲)۔۔۔۔۔۔ اگر زمین وآسمان اور جو کچھ اس میں ہے، اِن کے وزن کے برابر ہو تومیں اسے ان کی نظرو ں میں کم کر دیتا ہوں ، (۳)۔۔۔۔۔۔ میری رحمت ان کی طرف متو جہ ہوتی ہے ،کیا کوئی جانتاہے کہ میں جس کی طر ف متو جہ ہوتا ہوں، اسے کیا دیتا ہوں؟'' 

    حضرت سَیِّدُنا داؤدعلی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کے واقعات میں منقول ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی طرف وحی بھیجتے ہوئے استفسار فرمایا: ''اے داؤد علیہ السلام ! کب تک جنت کا ذکر کرتے رہو گے اور مجھ سے میرے شوق کا سوال نہیں کرو گے؟'' آپ نے عرض کی : ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! تیرے مشتاق لوگ کون ہیں ؟'' فرمایا: ''جو لوگ میرا شو ق رکھتے ہیں، میں انہیں ہر کدورت سے پاک کر دیتاہوں اورہر خوف سے متنبہ کردیتا ہوں اور ان کے دِلوں میں اپنی طر ف ایک شگاف کر دیتا ہوں جس