Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
353 - 415
قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کہو ،پھر انہیں چھوڑدو۔ (پ7، الانعام:91)

    (۲)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کا کامل ہونا ۔ پہلے کی مثال زمین کو کانٹو ں اورگھاس پھوس سے صاف کرنا ہے اور دوسرے کی مثال زمین میں بیچ ڈالنا تاکہ وہ اُگے اور اس سے معر فت کا درخت پیدا ہو اوروہ کلمہ طیبہ ہے جس طر ح اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیۡ السَّمَآءِ ﴿ۙ24﴾
ترجمۂ کنزالایمان: جس کی جڑقائم اور شاخیں آسمان میں۔(پ13،ابراھیم:24)
مَحَبَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا بیان
     جب محبت ثابت ہوجاتی ہے تو محبوب کی طر ف شوق صحیح ہوجاتا ہے او راس بات پر احادیث وآثار دلالت کرتے ہیں مروی ہے، حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سَیِّدُنا کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:'' مجھے تورات کی کوئی خاص آیت بتائیے؟'' انہوں نے جواب دیا: اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
طَالَ شَوْقُ الْأبْرَارِ إلٰی لِقَائِیْ وَأنَا إلٰی لِقَائِھِمْ اَشَدُّ شَوْقًا ۔
ترجمہ:نیک لوگو ں کا مجھے ملنے کا شوق طویل ہو گیا اور مجھے بھی ان کی ملاقات کا بہت شو ق ہے ۔

    پھرفرمایا: اس آیت کے قریب یہ بھی لکھا ہے:
مَنْ طَلَبَنِیْ وَجَدَنِیْ، وَمَنْ طَلَبَ غَیْرِی لَمْ یَجِدْنِیْ۔
ترجمہ: جس نے مجھے تلاش کیا اس نے مجھے پالیا اور جس نے میرے غیر کو تلاش کیا وہ مجھے نہیں پاسکتا۔

    یہ سن کرحضرت سَیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:'' میں گواہی دیتاہوں کہ یہ بات میں نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے بھی سُنی ہے ۔''

    حضرت سَیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی روایات میں مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ سے فرمایا: '' اے داؤد(علیہ السلام)! زمین والوں تک میری یہ بات پہنچا دو، کہ میں اس شخص کا حبیب ہوں جومجھ سے محبت کرے، اس کا ہم نشین ہوں جو میرے پاس بیٹھے،اس کا مونس ہوں جو میرے ذکرسے مانوس ہو ،اس کارفیق ہوں جو میرادوست ہو، جو مجھے اختیار کرے میں اسے اختیا ر کر وں گا،جو میری اطاعت کرے میں اس کی بات مانوں گا، جو شخص یہ جانتے ہوئے یقینِ قلب کے ساتھ مجھ سے محبت کرتا ہے میں اسے اپنی ذات کے لئے قبول کرتا ہوں اور اس سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اس سے آگے نہیں
Flag Counter