Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
352 - 415
     اور یہی وہ طبیعت ہے جس کے ذریعے اپنی قوت کے مطابق جمالِ ربو بیت کاادراک کیا جاتا ہے۔ جب جمال محبوب ہو تو کیا وجود میں کوئی ایسی شئے ہے جو اس کے فضل وکرم سے عطا ہونے والے جمال سے ز یادہ جلیل ، اعلیٰ،اشرف ، اعظم اور کامل ہو اور جس قدر اس کا ادراک ہو اسی قدر لذت حاصل ہوگی اور جس قدر لذت حاصل ہوگی اسی قدر اس سے محبت ہوگی۔
مدرکات کی اقسام:
    جاننا چاہے! مدرکات کی دو اقسام ہیں: ایک وہ جو خیال میں آتے ہیں جس طر ح صورتیں اور دو سرے وہ جو خیال میں نہیں آتے جس طر ح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات اور وہ اشیاء جن کا نہ تو جسم ہوتا ہے نہ ہی صورت جیسے علم ، قدرت اور اِرادہ وغیرہ ۔جو شخص کسی انسان کو دیکھے، پھر آنکھیں بند کرلے، تو وہ اس کی صورت کو اپنے خیال میں پاتا ہے گویا وہ اس کی طر ف دیکھ رہا ہے لیکن جب آنکھ کھول کر اسے دیکھتا ہے تو اسے دو نوں کے درمیان فر ق محسوس ہوتاہے اور یہ فر ق دو نوں صورتوں میں اختلاف کی شکل میں نہیں ہوتا، بلکہ کشف اور زیادہ واضح ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے اور یہ اس شخص کی طر ح ہے، جسے دن کا اُجالا پھیلنے سے پہلے صبح کی سفیدی میں دیکھا جائے اور پھر مکمل روشنی کے وقت دکھائی دے تو دونوں حالتوں میں فر ق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص زیادہ ظاہر وواضح ہوتا ہے پس جب تو نے یہ جان لیا تویہ بھی جان لے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جاری کردہ طریقہ ہے کہ جب تک نفس اپنی بری صفات کے پر دے میں ہوتا ہے وہ ان معانی کے مشاہد ہ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا جو عالَم محسوسات اورخیال سے خارج ہوتے ہیں بلکہ نفس کے لئے وہ صفات اس طرح ہوتی ہیں جس طر ح آنکھ کے لئے پلکوں کا بند ہونا۔ جس قدر وہ بُری صفات ختم ہوتی جاتی ہیں اسی قدر نفس کے کشف ،وضاحت ، لذَّت او رمحبت میں اضافہ ہوتا جاتاہے۔
اللہ عَزَّوَجَل کی محبت کا قرب بخشنے والے اسباب:
    جاننا چاہے ! آخر ت میں سب سے زیادہ سعا دت مندوہ شخص ہوگا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ محبت ہوگی کیونکہ آخرت سے مراداللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری اور اس کی ملاقات کی سعادت حاصل کرنا ہے اور محب کے لئے محبوب کے پاس آنے سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے جبکہ وہ ایک عرصہ سے اس بات کا شوق رکھتا ہے کہ وہ کسی روکاوٹ کے بغیر دائمی مشاہدے پر قادر ہو، اورمحبت میں اضافہ کے دو اسباب ہیں۔

    (۱)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ ہر خیال کو دل سے نکال دینا۔ کیونکہ بر تن جب کسی چیز سے خالی ہو تو اس میں دوسری چیز کی گنجائش ہوتی ہے اور دنیاوی علائق کا ترک کرنا خالی ہونے اور تنہا ہونے کا سبب ہے اور اسی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں اشارہ فرمایا:
Flag Counter