جاننا چاہے! انسان کو سب سے زیادہ اپنی ذات سے محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ نفس کے موافق چیزوں میں سے سب سے بڑی ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہنا پسند کرتاہے اور پھر اس سے محبت کرتا ہے ،جو اس پر احسان کرے کیونکہ انسان احسان کا غلام ہے، اور کبھی کسی چیز سے اس کی ذات کی وجہ سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ چیز بذاتِ خود حسین وجمیل ہوتی ہے اور یہ محبت کی سب سے بڑی قسم ہے جس میں کوئی غر ض شامل نہیں ہوتی، کیونکہ ہر خو بصورت چیز محبوب ہوتی ہے اور جو لوگ خیالات کی قیدمیں بند ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ جمال صرف محسوس چیز یاخیالی صورت میں ہوتا ہے۔
جبکہ ہم کہتے ہیں، یاد رکھئے! ہر چیز کی حسن وخوبی وہی ہے جو اس کے ممکن ولائق ہو، یہاں تک کہ ہم جانتے ہیں کہ گھوڑا ان اوصاف سے خوبصورت ہوتاہے جن اوصاف سے آدمی حسین نہیں ہوتا، اور خط کو اس چیز کے ساتھ حسن حاصل ہوتاہے جس چیز سے آواز اور تصور کو حسن حاصل نہیں ہوتا، حالانکہ یہ تمام چیزیں محبوب ہے اور اگر خیال کرنے والا تصور کرے تو یہ چیزحِس کی طرف لوٹتی ہے ،پس اخلاقِ حسنہ ، علم، قدرت او رعقل ہر چیز حسین و محبوب ہوتی ہے حالانکہ ظاہری حواس سے ان کا ادارک نہیں ہوسکتا، بلکہ انہیں نورِ بصیرت سے سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح امامُ الانبیاء صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ،آپ کے صحابۂ کرام علیہم الرضوان ، حضرت سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی اور دیگر اربابِ مذاہب کی محبت ممکن ہے ،حالانکہ یہ غیر محسو س ہے اور حواسِ خمسہ سے اس کا ادراک نہیں ہوتا،بلکہ جب اس نے بھلائی کی عا دات کے مجموعے کو سنااور ہر اس چیز کے بارے میں سناجو محسو س نہیں، تو اس نے اسے اچھا جانا اور یہ اچھا سمجھنا نورِ بصیرت کے ذریعے ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا محبت کا مستحق کوئی نہیں ،کیونکہ وہی اصل فطرت سے پیدا کرنے والا اور بخشنے والا ہے، پھر وہی دوام، بقاء اور سلامتی کا سبب ہے اور وہی ہر حال میں احسان فرمانے والا اور وہی حسین وجمیل ہے اور ہر حسن وجمال اسی کے وجود سے آشکا ر ہے۔
پس جو شخص انبیاء کرام علیہم والسلام ، صحابہ کرام علیہم الرضوان اور آئمۂ عظام سے اخلاقِ جمیلہ کی وجہ سے محبت کرتاہے تو تمام بھلائی اسی سے ہے او راللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے وہ جمال ہے کہ ہر جمال میں اس کا اثر ہے اور تم نے جان لیا کہ ہر خوبصورت اپنی ذات کی وجہ سے محبوب ہو تاہے اور تم نے یہ بات بھی پہچان لی کہ انسان کی خاصیت صفاتِ حمیدہ سے مزیّن ہونے پر قادر ہونا ہے حتی کہ کہا گیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اخلاق اپناؤ ،او رانسان کے باطن میں ایک حقیقت ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کے مناسب ہے اور دل کے اند ر ایک طبیعت ہے جسے نور ِالٰہی عَزَّوَجَل کہا جاتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: