حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: '' میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعد اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا۔'' امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:'' جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سچی محبت کا ذائقہ چَکھ لیتا ہے تو یہ چیز اسے طلبِ دنیا سے بے نیاز کردیتی ہے اور اسے تمام لوگوں سے وحشت دلاتی ہے۔''
محب کے نزدیک محبت کے لذیذ ہونے کی وجہ سے طبیعت اس کی طر ف مائل ہوتی ہے اور بغض اس کی ضد ہے جو کسی چیزسے طبعی نفرت کانام ہے، کیونکہ وہ طبیعت کے موافق نہیں ہوتی، او ر جس چیز کی لذَّت بڑھتی ہے اس کی محبت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، آنکھوں کی لذَّت دیکھنے میں، کانوں کی لذَّت سننے میں اور ناک کی لذَّت پاکیزہ خوشبو ؤں میں ہے۔ اسی طر ح ہر حِس کے موافق ایک چیز ہے جس سے انسان لذَّت حاصل کرتا ہے اور اسی سبب سے اس چیز سے محبت کرتاہے۔
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
حُبِّبَ إلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ ثَلاَثٌ: اَلطِّیْبُ،اَلنِّسَاءُ وَقُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلَاۃِ ۔
ترجمہ:تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں محبوب ہیں: (۱) خوشبو (۲) عورتیں اور (۳) میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔
(سنن النسائی ،کتاب عشرۃالنساء ، باب حب النساء ،الحدیث۳۳۹۱، ص۲۳۰۷، مفہومًا)
اس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ حواس کے لئے محسوس ہونے والی اشیاء کے علاوہ بھی محبوب چیزیں ہوتی ہيں جن سے وہ لذَّت حاصل کرتے ہیں کیونکہ نماز ان چیزوں میں سے نہیں جن سے حواسِ خمسہ(یعنی دیکھنے،سننے ،سونگھنے، پکڑنے اورچکھنے کی قوت) کے ساتھ لذت حاصل کی جائے کیونکہ با طنی بصیرت ظاہری نگاہوں سے قوی ہوتی ہے اور دل آنکھ سے زیادہ ادراک رکھتا ہے ،عقل سے حاصل ہونے والا جمالِ معنوی ظاہری صورت کے جمال سے اعظم واکمل ہوتا ہیں۔ پس دل جن امور الٰہیہ شریفہ کا ادراک کرتا ہے وہ زیادہ مکمل وبلیغ ہوتے ہیں اور حوا س ان کا ادراک نہیں کرسکتے۔ لہٰذا طبعِ سلیم کا ان کی طرف میلان زیادہ ہوتا ہے پس محبت کا معنی یہی ہوا کہ دل کا اس چیز کی طرف مائل ہونا جس کے پانے میں لذت حاـصل ہوتی ہے۔اور اس لذت کا وہی شخص انکار کرتا ہے جس کو اس کی کوتاہی جانوروں کے درجہ میں بِٹھا دیتی ہے اور اس کا ادراک حواس سے آگے بالکل نہیں بڑھتا۔