Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
349 - 415
باب36:        محبت ، شوق اوررضا کا بیان
    جاننا چاہے!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت انتہائی بلند مقصد اوربلند درجہ ہے اوراس کے علاوہ شوق، اُنس اوررضا محبت کے تابع ہیں اورجن لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس لذت سے محروم رکھا انہوں نے اس کے ممکن ہونے کا انکار کیا ہے اورہم آیات واحادیث کی روشنی میں محبَّتِ اِلٰہی عَزَّوَجَلَّ کو واضح کریں گے۔چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
(1) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔(پ2،البقرۃ: 165)
(2) یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
ترجمۂ کنزالایمان: وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔ (پ6،المآئدۃ:54)

    حدیث ِ پاک میں ہے:''تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول ( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) اس کے نزدیک اس کے اہل ومال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک بن النضر، الحدیث۱۳۱۵۰،ج۴،ص۴۱۲) 

(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب وجوب محبۃ رسول اﷲ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۱۶۸،ص۶۸۸)
    مشہور روایت ہے کہ جب موت کافرشتہ حضرت سَیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام کی روح قبض کرنے کے لئے حاضر ہو ا تو آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا:'' کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی خلیل اپنے خلیل کو موت دے ؟'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی کرتے ہوئے استفسار فرمایا :''کیا تم نے کسی محب کو اپنے محبوب کی ملاقات کو ناپسند کرتے ہوئے دیکھا ہے؟'' تو حضرت سَیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوٰۃو السلام نے فرمایا: ''اے موت کے فر شتے !ابھی میری رو ح قبض کرلو۔''

    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دُعا مانگی:
''اللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ مَا یُقَرِّبُنِیْ إلٰی حُبِّکَ إجْعَلْ حُبَّکَ أحَبَّ إلَیَّ مِنَ المَاءِ البَارِدِ
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اپنی اور اپنے محبین کی محبت عطا فرما اور اس(عمل)کی محبت عطا فرما جو مجھے تیری محبت کے قریب کردے اور اپنی محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔''
(جامع الترمذی ، کتاب الدعوات ،باب دعاء داؤد ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۴۹۰،ص۲۰۱۱، مفہومًا)
     ایک اعرابی نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! قیامت کب قائم ہوگی؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا: ''تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟''اس نے عرض کی:'' میں نے اس کے لئے نماز رو زے کی کوئی زیادہ تیاری نہیں کی، البتہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے محبت کر تا ہوں۔''تومحبوبِ ربُّ العالمین
Flag Counter