Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
34 - 415
ششدر کردے گی اس لئے کہ ابتداء میں دل اس بات کی طرف متوجہ ہوجاتاہے جو اس کو بتائی جائے خصوصاً بے کار کاموں پر جو سستی و کاہلی کا سبب بنتے ہیں اس لئے ابتدائی طالب علم کومنتہی(زیادہ علم والے) کے افعال کی اقتداء کرنا درست نہیں حتی کہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ'' جس نے ہمیں ابتداء میں دیکھا وہ دوست بن گیا اور جس نے ہمیں انتہاء میں دیکھا وہ زندیق ہوگیا۔'' کیونکہ آخر میں اس طرح کے لوگوں کے اعضاء فرائض کے علاوہ دیگر حرکات (یعنی اعمال)سے خاموش ہو جاتے ہیں اور وہ نوافل کی بجائے سیر قلوب کرتے ہیں اور ہمیشہ عالم شہود میں ہو تے ہیں اور غا فل یہ سمجھتا ہے کہ یہ ان کی سستی و کاہلی ہے ۔چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ تَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: اور تو دیکھے گا پہاڑوں کو خیال کریگا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادل کی چال۔ (پ20، النمل:88)

    پانچواں اَدب:طالب علم پسندیدہ علم کے فنون میں سے کوئی فن نہ چھوڑے بلکہ اس میں اس قدر غور کرے کہ وہ مقصود سے آگاہ ہو جائے پھر اگر زندگی وفا کرے تو اس میں مہارت حاصل کرے ورنہ اس سے زیادہ اہم میں مشغول ہو جائے اور اہم علم کو اختیار کرنا تمام علوم پر مطّلع ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔

     چھٹا اَدب:طالب علم کو چاہے کہ وہ اہم علم کی طرف مشغول ہو اور وہ علم آخرت ہے یعنی علم معاملہ اور علم مکاشفہ۔علم معاملہ کی انتہاء علم مکا شفہ ہے جبکہ علم مکاشفہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت ہے اور یہ وہ نور ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے کے دل میں ڈالتا ہے جس نے عبادت و مجاہدہ کے ذریعے اپنے باطن کو آلائشوں سے پاک کرلیا ہواوراس نورکی انتہا امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رتبۂ ایمان پرہوتی ہے اوران کے ایمان کے بارے میں خودحضورنبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
''لَوْوُزِّنَ اِیْمَانُ اَھْلِ الْاَرْضِ بِاِیْمَانِ اَبِیْ بَکْرٍلَرَجَحَ
ترجمہ: اگر تمام اہل زمین کا ایمان ابوبکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ایمان کے ساتھ تولاجائے تو ان کا ایمان بھاری ہو ۔''
(شعب الایمان للبیہقی،باب القول فی زیادۃ الایمان ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۶،ج۱،ص۶۹)
    اور یہ فوقیت اس باطنی راز کے باعث تھی جو آپ کے سینے میں پختہ ہو گیا تھا نہ کہ دلائل وبراہین کی ترتیب کی وجہ سے اور تعجب ہے ان لوگوں پر جو رسول کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس قسم کے ارشادات سنتے ہیں پھر انہیں صوفیاء کے کلام کی طرح معمولی سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ صوفیاء کی بیہودہ باتیں ہیں پس انسان کو چاہے کہ یہاں غور و فکر کرے کیونکہ اسی مقام پر اصل سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے تو تجھے اس راز کے جاننے کا حریص ہونا چاہئے جو فقہاء و متکلمین کی طاقت سے باہرہے تجھے اس وقت
Flag Counter