Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
348 - 415
بیان فرمایا کہ'' وہ دم کروانے ، داغ لگانے اورفال لینے کو چھوڑدیتے ہیں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کی یہ صفت بیان نہیں فرمائی کہ وہ سردی سے محفوظ رکھنے والا لباس نہیں پہنتے۔ ہاں! جب تک ممکن ہو وہ غیر کی تکلیف پر صبر کرے اوراسے برداشت کرے کہ یہ توکل کی شرائط میں سے ہے،جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَدَعْ اَذٰىہُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیۡلًا ﴿48﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اوران کی ایذاپر درگذر فرماؤ اوراللہ پر بھروسہ رکھو اوراللہ بس(کافی) ہے کارساز۔(پ22،الاحزاب:48)

    اسی پرقیاس کرتے ہوئے بعض حالات میں دوا کو ترک کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ بھی اسی طرح ثابت ہے اوریہ متوکل کے مقام کی قوت کے اعتبار سے ہے۔
Flag Counter