| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جہاں لوگ اس کی خبر گیری کرتے ہیں۔
توکل کاتیسر ادرجہ : یہ ہے کہ وہ سنت کے مطابق رزقِ حلال کمائے جیسا کہ کسب کے باب میں بیان ہوچکا ہے اورکہا گیا کہ یہ چیز اسے توکل سے خارج نہیں کرتی، لیکن یہ توکل کا سب سے کمزور درجہ ہے اوراس میں یہ بھی شرط ہے کہ اس کا اعتماد سامان پر نہ ہو، اوراس کی علامت یہ ہے کہ وہ چوری یا مال کے ضائع ہونے پر غمزدہ نہ ہو۔عیال دار کا توکُّل:
جاننا چاہے!عیال دار کا اپنے اہلِ خانہ کے حق میں توکل کرنادرست نہیں کیونکہ اس کا اپنے حق میں مختلف امور کے ساتھ توکل کرنا تو صحیح ہے جیسے ایک ہفتہ تک کھانا کھانے سے رُکے رہنا ا ور اگر اسے کھانا وغیرہ نہ ملے تواس کا مرنے پر راضی رہنا، پس یہ چیزیں اہل وعیال کے حق میں تصور نہیں کی جا سکتیں لہٰذاان کے لئے کمانا ضروری ہے جیسے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں منقول ہے ،کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں کے لئے کسب معاش کے لئے بازار تشریف لے گئے۔ یہ ہمارے ذکر کردہ تیسرے مقام کی مثال ہے اوربال بچوں کی وجہ سے سال بھر کے لئے کھاناجمع کر کے رکھنا ثابت ہے جبکہ وہ شخص جس کی اولاد نہ ہو اوراسے وراثت یا کسی اور سبب سے مال مل جائے توپہلی حالت: یعنی توکل کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ اس وقت کے لئے ضرورت کے مطابق رکھ لے اورباقی ذخیرہ نہ کرے بلکہ فقراء میں تقسیم کردے۔
دوسری حالت:یہ ہے کہ وہ چالیس دن یا اس سے کم کے لئے جمع کرے۔ اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ چیز اسے متوکلین کے گروہ سے نکال دے گی ؟اورکیا یہ اس درجہ سے محروم ہوجائے گا جس کا متوکلین سے وعدہ کیا گیا ہے؟
تیسری حالت : یہ ہے کہ وہ ایک مہینہ یا ایک سال کے لئے جمع کرے اور یہ چیز متوکلین کے درجہ سے محرومی کا سبب ہے۔منقول ہے : حیوانات میں سے صرف تین حیوان جمع کرتے ہیں :چوہا، چیونٹی اورانسان۔
(۲) نقصان دہ چیز کو دور کرنا: دوسرافن یہ ہے کہ وہ ضرر کو اپنے آپ سے دور کرے یانقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچے۔ مثال کے طور پر وہ گرنے والی دیوار،درندوں کے ٹھکانوں اورٹوٹی ہوئی چھت سے بچے تو یہ چیز توکل کو باطل نہیں کرتی بلکہ یہ سب کچھ ثابت ہے اوریہ اسباب وہمی ، ظنی اورقطعی تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں اورتوکل کے لئے موہوم کو چھوڑنا ضروری ہے مثلاً دم کروانا اوراس جیسے دیگر اعمال۔کیونکہ نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے توکل کرنے والوں کا وصف اس طرح