Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
345 - 415
قادر سے پوچھ کیونکہ ذمہ داری صفت عطا کرنے والے پرہوتی ہے صفت پر نہیں۔ اس وقت قریب تھا کہ سالک لغزش کھاجاتا اورزبان سوال کی جرأ ت کر جاتی لیکن اسے قولِ ثابت کے ساتھ استقلال نصیب ہوا اوراسے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلّ کے پردوں کے پیچھے سے ندا دی گئی:
'' لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾
تر جمۂ کنزالایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اوران سب سے سوال ہوگا۔  (پ۱۷، الانبیآء: ۲۳)''یہ سن کر اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہیبت طاری ہوگئی، وہ بے ہوش ہوکر گرپڑااورایک مدت تک اپنی بے ہوشی میں تڑپتا رہا، جب افاقہ ہوا تو عرض کرنے لگا:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !تو پاک ہے ،تیری شان کس قدر عظیم ہے، میں نے تیری بارگاہ میں توبہ کی ، تجھ پر بھروسہ کیا اوراس بات پر ایمان لایا کہ تو ہی بادشاہ، واحد ، جبار وقہار ہے ، میں تیرے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا،اورنہ ہی تیرے سوا کسی سے امیدر رکھتاہوں،تیرے عذاب سے تیرے ہی عفوودرگزرمیں پناہ چاہتاہوں،تیری ناراضگی سے تیری رضا میں پناہ لیتاہوں ۔

    اب ہم اپنے مقصد کی طرف پلٹتے ہوئے توکُّل کا معنی بیان کرتے ہیں، پس ہم کہتے ہیں: توکل سے مراد یہ جانتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ پردل کا اعتماد کرنا ہے کہ اس کے علم وقدرت سے کوئی چیز بھی خارج نہیں اوراس کا غیر نفع ونقصان پر قادر نہیں۔
تَوکُّلْ کے متعلق اسلاف کے اقوال :
    حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ دَبِیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میں نے حضرت سَیِّدُنا ابو یزید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا: ''توکل کیا ہے؟'' انہوں نے مجھ سے استفسار فرمایا:'' تم کیا کہتے ہو؟''میں نے کہا:''ہمارے اصحاب تو فرماتے ہیں کہ اگر درندے اورسانپ تمہارے دائیں بائیں ہوں تو بھی تمہارے باطن میں کوئی حرکت نہ ہو۔'' توحضرت سَیِّدُناابو یزید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے: ''ہاں! یہ توکل کے قریب ہے لیکن اگر اہلِ جنت ، جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں اورجہنمیوں کو جہنم میں عذاب دیا جارہاہو، پھر تم ان دونوں کے درمیان تمیز کرنے لگو، تو توکّل سے نکل جاؤ گے۔ ''

    حضرت سَیِّدُنا ابو عبداللہ قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:'' ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تعلق قائم رکھنا۔'' سائل نے عرض کی: ''مزید کچھ فرمائیے۔'' فرمایا:'' ہر اس سبب کو چھوڑدینا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ تک پہنچنے میں روکاٹ ہو۔''
توکُّل کے درجات :
    توکل کے تین درجے ہیں:

    (۱)۔۔۔۔۔۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کااللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتماد اس طرح ہوجس طرح اس کا اعتماد اس وکیل پر ہوتاہے جس
Flag Counter