Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
344 - 415
کیونکہ اب میرے لئے ظاہر ہوگیا کہ اس نے قلم کے بارے میں جو کچھ بیان کیا تھا وہ سچ ہے۔بے شک میں اس قلم کو دیگرقلموں کی طرح نہیں دیکھتا۔ اس وقت اس نے علم کو رخصت کیااوراس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا :میں نے تمہارا بہت وقت لیا اوربہت بحث کی۔ اب میں ارادہ کرتاہوں کہ قلم کے پاس حاضری کے لئے سفر کروں اوراس سے اس کا معاملہ پوچھوں۔

    چنانچہ اس نے قلم کی طرف سفرشروع کردیا اوراس سے پوچھا: تجھے کیا ہوا کہ تو ہمیشہ دلوں پر وہ علوم لکھتا رہتا ہے جن کے ذریعے ارادے تقدیر کی طرف اٹھتے ہیں اورپھر مقدورات کی طرف جاتے ہیں۔ اس نے کہا: تُم وہ سب کچھ بھول گئے ہو جو تم نے

عالم الغیب والشہادۃ میں دیکھا تھا اورقلم سے تم نے سوال کیا تو اس نے جواب دیتے ہوئے تمہیں ہاتھ کی طرف پھیر دیا؟ اس نے جواب دیا: میں نہیں بھولا۔قلم نے کہا: میرا جواب بھی اس کے جواب کی طرح ہے۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہوسکتاہے حالانکہ تو اس جیسا نہیں ہے؟ قلم نے جواب دیا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا آدم علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ؟ اس نے کہا:ہاں، سنا ہے۔ اس نے جواب دیا: میرے بارے میں اس سے پوچھوجسےیمینُ الملک کہا جاتاہے۔ میں اس کے قبضہ میں ہوں، وہی مجھے پھیرتا ہے، میں اس کے حکم کے تابع ومسخر ہوں۔ پس تسخیر میں قلمِ الہٰی اورانسانی قلم میں کوئی فرق نہیں، فرق صرف ظاہری صورت کا ہے ۔سالک نے پوچھا:یمینُ الملک کون ہے ؟قلم نے جواب دیا: کیا تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ ارشاد نہیں سنا؟''وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌ م بِیَمِیْنِہٖ ط(پ۲۴،الزمر:۶۷)ترجمۂ کنزالایمان: اوراس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دئیے جائیں گے۔''اس نے کہا: ہاں ،سنا ہے۔قلم نے کہا: قلمیں بھی اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں اوروہی ان کو اِدھر اُدھر پھیرتاہے۔

    اب سالک نے قلم سے یمین کی طرف سفر شروع کردیا یہاں تک کہ اسے دیکھا اوراس کے عجائبات کا مشاہدہ کیا جو قلم کے عجائب سے زیادہ تھے ان میں سے نہ تو کسی کا وصف بیان کیا جاسکتاتھا اورنہ ہی شرح کی جاسکتی تھی، بلکہ کئی جلدوں میں اس کا سوواں حصہ بھی نہیں سما سکتاتھا ۔

     خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وہ یمینِ قدرت ہے جو دیگر دائیں ہاتھوں کی طرح نہیں دستِ قدرت ہے لیکن دوسرے ہاتھوں کا سا نہیں، اور انگلی ہے لیکن دوسری انگلیوں جیسی نہیں، اس نے قلم کو اس کے قبضہ میں حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو اس کے لئے قلم کا عذرظاہر ہوگیا، اس نے یمین سے اس کے معاملے اورقلم کو حرکت دینے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: میرا بھی وہی جواب ہے جو تونے عالم الشہادۃ کے دائیں ہاتھ سے سنا ( کہ اس نے کہا تھا)کہ قدرت سے پوچھوکیونکہ ہاتھ ذاتی طور پر کچھ نہیں کرسکتا، اسے قدرت ہی حرکت دیتی ہے پھر وہ عالم قدرت کی طرف گیا اوراس میں ایسے عجائب دیکھے جن کے سامنے پہلے کے عجائب معمولی معلوم ہوئے اوراس نے یمین کو حرکت دینے کے بارے میں پوچھاتو اس نے جواب دیا کہ میں نیک صفت ہوں تو