سے ظاہر معنی سمجھتے ہو جس کا اِدراک بصیرت سے ہوتا ہے نہ کہ بصارت سے تو محض اس کی پاکیزگی بیان کرنے والے بن جاؤ اورراستے کو لپیٹ دو کہ تم
مقدَّس وادی تک پہنچ چکے ہو اور دل کی گہرائی کے ساتھ اس بات کو سنو جو تمہارے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ شاید تمہیں آگ سے رہنمائی مل جائے اور تمہیں عرش کے پردوں کے پیچھے سے آواز دی جائے، جس طرح حضرت سَیِّدُنا موسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو آواز دی گئی:
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک میں تیرا رب ہوں۔''(پ ۱۶،طہ:۱۲)
جب سالک نے علم سے یہ بات سنی ،تو اسے اپنے نفس کی کوتاہی کا شعور حاصل ہوا اوریہ کہ وہ تشبیہ وتنزیہ کے درمیان ہیجڑے کی صورت میں ہے تو اسے اپنے نفس پر اس قدر غصہ آیا کہ اس کی گرمی سے اس کے دل میں آگ بھڑک اٹھی۔ جب اس نے اپنے نفس کوکوتاہ نظری سے دیکھا اور قریب تھا،کہ اس کے دل کے چراغ کا تیل آگ کے پہنچے بغیر روشن ہوجائے ا ورجب اس کی گرمی کی وجہ سے اس میں علم پھونکا گیا ،تواس کے تیل نے شعلہ پکڑا اوروہ نورٌعلٰی نور ہوگیا پس علم نے اس سے کہا: اب اس فرصت کو غنیمت جانو اوراپنی آنکھ کھولو، شاید تم آگ سے رہنمائی حاصل کرلو چنانچہ اس نے آنکھ کھولی تو اس کے لئے قلم الہٰی عَزَّوَجَلَّ منکشف ہوگیااوروہ ایساہی تھا جیسے تنزیہ کے سلسلے میں علم نے بیان کیا تھا۔ نہ لکڑی کا ہے ،نہ بانس کا، نہ تو اس کا سر ہے اورنہ ہی دُم ۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے دلوں پر مختلف علوم لکھتا ہے اور ہر دل میں اس کا ایک سِر(یعنی راز) ہے حالانکہ اس کا اپنا کوئی سِر نہیں تو اس سے تعجب مکمل ہوا اوراس نے کہا: علم کتنا بہترین دوست ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے میری طرف سے اچھی جزاء عطافرمائے
۱؎:اس حدیثِ پا ک کے تحت مفسرِ شہیر، حکیم الامت مولانامفتی احمد یا ر خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''یعنی اپنی پسندیدہ صورت پرپیدا فرمایا کہ تمام مخلوق میں اسے حسین و جمیل فرمایا، خود فرماتا ہے:
'' لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔(پ۳۰،التین:۴)'' لہٰذا حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ اللہ تعالیٰ توصورت سے پاک ہے پھر اس کی صورت کیسی۔ یا یہ اضافت شرف کے لئے ہے جیسے
بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو صورتِ رحمن پر پیدا فرمایا، اگر وہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب بھی یہ ہی ہو گا ۔خیا ل رہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بڑی کامل مخلوق ہے، اسے رب نے سننے، دیکھنے، بولنے اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بخشی، اگر یہ ترقی کرے تو فرشتوں سے افضل ہو جائے، اگر نیچے گرے تو ابلیس سے بدترین ہو جائے اور اس کی ساری قوتیں سر اور چہرے میں جمع ہيں اس لئے اس پر مارنے سے منع فرمایا گیا ۔''
(مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،باب ما لا یضمن من الجنایات،الفصل الاول، ج۵، ص۲۵۶۔۲۵۷)