Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
342 - 415
اور عالم ملکوت کا پہلا مشاہدہ وہ قلم ہے جس کے ساتھ علم لکھا جاتاہے اوراس یقین کا حصول ہے جس کے ذریعے وہ پانی پر چلتا ہے۔ کیا تم نے حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کے بارے میں حضور نبئ کریم، ر ء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمان نہیں سناکہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کی گئی کہ وہ پانی پر چلتے تھے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لَوْ إزْدَادَ یَقِیْنًا لَمَشٰی عَلَی الْھَوَاءِ ۔
ترجمہ :اگر وہ یقین میں بڑھ جاتے تو ہوا پر چلتے ۔
(حلیۃ الاولیاء، وھیب بن الورد، الحدیث۱۱۷۴۰،ج۸، ص۱۶۶)
    (علم کی یہ باتیں سن کر) سوال کرنے والے سالک نے کہا: میں اپنے معاملے میں حیران ہوں اور جو تم نے راستے کا خطرہ بیان کیا ہے، اس بات سے میرے دل میں خوف پیدا ہوا ہے اورمجھے نہیں معلوم کہ میں اس خوفناک جنگل سے گزرنے کی طاقت بھی رکھتاہوں یا نہیں ،کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟ علم نے جواب دیا:ہاں! اپنی آنکھیں کھولو، دونوں آنکھوں کی روشنی کو جمع کرکے میری طرف دیکھو۔ اگر تمہارے سامنے وہ قلم آجائے جس کے ساتھ مجھے دل کی تختی پر لکھا جاتاہے تو تم اس راستے کے اہل ہو ،کیونکہ جو آدمی عالَم جبروت سے بڑھ جائے اورملکوت کے دروازوں میں سے پہلے دروازے کو کھٹکھٹائے تو اس پر قلم ظاہر ہو جاتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضور نبئ کریم، ر ء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر پہلی مرتبہ ہی قلم واضح کردیا گیا اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اللہ عَزَّوَجَل کا یہ فرمان نازل ہوا:
اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿3﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿4﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پڑھو اورتمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کوسکھایا جو نہ جانتا تھا۔(پ30،العلق:3۔5)

    سالک نے کہا: اب میں نے اپنی آنکھ کھول لی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں بانس اورلکڑی کو نہیں دیکھتا اورنہ قلم کو جانتاہوں مگر یہ کہ وہ اس طرح ہے۔تو علم نے کہا: تم اپنے مقصود سے دور ہو گئے، کیا تم نے نہیں سُنا کہ گھر کا سامان صاحبِ خانہ جیسا ہوتاہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کسی چیز کے مشابہ نہیں؟ایسے ہی اس کا دستِ قدرت دوسرے لوگوں کے ہاتھوں، اس کا قلم دوسرے قلموں،اس کا کلام دیگر کلاموں اوراس کا خط دوسری تحریروں جیسا نہیں۔ یہ عالَمِ ملکوت سے تعلق رکھنے والے امورِ الٰہیہ ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی ذات میں نہ جسم ہے،نہ کسی دوسرے کی طرح مکان میں ہے اور نہ ہی اس کا دستِ قدرت دوسرے ہاتھوں کی طرح گوشت،ہڈی اورخون کا مرکب ہے اور نہ اس کی تختی اور قلم لکڑی کا ہے،اس کا کلام آواز وحروف سے مرکب نہیں، اس کی تحریرنقوش سے پاک ہے اوراس کی روشنائی پھٹکڑی اور مازو(ایک رنگ کا نام ہے) سے پاک ہے۔ اگر تم ان چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے تو میں تمہیں ہیجڑا سمجھتا ہوں ،جوپاکیزگی کی مردانگی اورتشبیہ کی تانیث کے درمیان ہے، دونوں کے درمیان تذبذب کا شکار، نہ ادھر کا نہ اُدھر کا۔
Flag Counter