سائل عاجز ہوجاتاہے، اس کا جواب اسے نفع نہیں دیتا تو وہ کہتاہے: اس راستے میں میری تھکاوٹ بہت ہوگئی اور میں نے بہت منزلیں طے کرلیں ،مجھے جس سے توقع ہوئی کہ وہ بتائے گا اس نے مجھے دوسروں کے حوالے کردیا لیکن کثرت سے پھرنے کی وجہ سے مجھے خوشی ہوئی کیونکہ ہر ایک سے ایساکلام سنا جسے میرے دل نے قبول کیا اور ہر ایک نے اعتراض دورکرنے کے لئے واضح عذر پیش کیا۔ اب اے علم !تمہارا یہ کہنا کہ میں ایک نقش اورخط ہوں اورمجھے قلم نے لکھا ہے ،یہ بات مجھے سمجھ نہیں آتی ،مجھے تو ایک ہی قلم کا علم ہے جو لکڑی سے بنتا ہے،تختی جو لوہے یا لکڑی کی ہوتی ہے،خط روشنائی سے اورچراغ آگ سے روشن ہوتاہے،میں نے اس منزل میں تختی ، چراغ ، خط اورقلم کی بات سنی لیکن ان میں سے کسی کو دیکھا نہیں ،میں چکی کی آواز تو سنتا ہوں لیکن چکی نظر نہیں آتی؟ تو علم نے اسے جواب دیا: اگر تم اپنی بات میں سچے ہوتوتمہارے پاس پونجی کم ، زادِ راہ قلیل اورسواری کمزور ہے اورجس راستے پر جارہے ہو اس میں ہلاکتیں زیادہ ہیں ،پس تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ یہ خیال چھوڑدو، تم اس میدان کے مرد نہیں لہٰذا اس سے ہٹ جاؤ کیونکہ جس کو جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہو وہ کام اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے۔اوراگر تم اس مقصد کے راستے کی تکمیل میں رغبت رکھتے ہوتو کان لگا کر سنواور گواہ رہو۔
جان لو! تمہارے راستے میں یہ تین عالَم ہیں۔
(۱) ۔۔۔۔۔۔عالَم الملک والشہادۃ:کاغذ، سیاہی ، قلم اور ہاتھ کا تعلق اس عالم سے ہے اوران منازل کو تم نے آسانی سے طے کرلیا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔عالَمِ ملکوت:یہ پہلے کے بعد ہے ۔جب تم عالم ملک سے تجاوز کرجاؤ گے تواِس کی منزل تک پہنچ جاؤ گے لیکن اس کے راستے میں بہت بڑے جنگل ، بلندوبالا پہاڑاورغرق کرنے والے سمندر ہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ تم کس طرح اس میں سلامت رہو گے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔عالَم جبروت:یہ عالَمِ مُلک اورعالَمِ ملکوت کے درمیان ہے۔ تم نے اس کی تینوں منز لیں طے کرلی ہیں کیونکہ اس کی ابتداء میں قدرت، ارادہ اورعلم کی منزل ہیں اوریہ عالَم ملک اورعالَمِ ملکوت کے درمیان واسطہ ہے کیونکہ عالَمِ مُلک کا راستہ آسان ہے جبکہ عالم ملکوت کا راستہ اس سے دشوار گزار ہے۔
عالَمِ جبروت ،جو عالَمِ ملک اورعالَمِ ملکوت کے درمیان ہے، اس کشتی کی طرح ہے جو پانی اورزمین کے درمیان ہوتی ہے۔ اب نہ تو وہ پانی کے اضطراب کي حد میں ہے اورنہ ہی زمین کے سکون اور ٹھہراؤ کی حد میں۔پس زمین پر چلنے والا شخص عالم الملک والشہادۃ میں ہے ،اگر اس کی قوت تجاوز کرے اورکشتی پر سوار ہوجائے تو وہ اس طرح ہے جیسے عالمِ جبروت میں چلتاہے، اگر وہ اس منزل پر پہنچ جائے کہ بغیر تھکاوٹ اور بغیر کشتی کے پانی پر چل سکتاہو تو وہ عالمِ ملکوت میں چلتاہے لیکن اگر تم پانی پر چلنے کی طاقت نہیں رکھتے تو واپس آجاؤ کہ تم زمین سے آگے بڑھ گئے لیکن کشتی سے پیچھے رہ گئے، اب تمہارے سامنے صاف پانی باقی ہے