Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
340 - 415
اور نہ ہی اسے مسخرکررہی تھی بلکہ میں توساکن تھی ۔سوچنے والوں نے یہ گمان کیا کہ میں مردہ یا معدوم ہوں کیونکہ میں نہ تو حرکت کرتی تھی اورنہ کسی کو حرکت دیتی تھی یہاں تک کہ ایک مؤکل میرے پاس آیا، اس نے مجھے حرکت دی اورجھنجھوڑا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ اب میں اس کی موافقت تو کرسکتی تھی لیکن مخالفت میرے بس میں نہ تھی، اس مؤکل کو ارادہ کہتے ہیں۔ میں تو اس کا نام ہی جانتی ہوں اوریہ جانتی ہوں کہ اس نے یکبارگی چڑھائی کر کے مجھے گہری نیندسے جگا دیا اورمجھ سے زبردستی وہ کام لیا کہ اگر میری رائے کو پوچھتا تو مجھے گنجائش تھی کہ میں اسے نہ کرتی اس نے کہا تم نے سچ کہا۔

     پھر اس نے ارادے سے پوچھا : تجھے کیسے جرأت ہوئی کہ تو نے اس خاموش وساکت قدرت کو حرکت میں لگا دیا اوراس قدر زبردستی کی کہ وہ چھٹکارا نہ پاسکی ؟ ارادے نے جواب دیا: مجھ پر جلدی نہ کرو میرے پاس بھی عذر ہے اورتم مجھے ملامت کر رہے ہو، کیونکہ میں خود نہیں اٹھا بلکہ مجھے اٹھایا گیا ہے، میں اپنے ارادے سے نہیں گیا بلکہ مجھے سخت حکم اورپختہ ارادے سے بھیجا گیا۔ جانے سے پہلے تو میں ساکن تھا لیکن علم کا قاصدحضرت دل سے عقل کی زبان پر میرے پاس آیا کہ قدرت کو اٹھادو تو میں نے مجبوراًاسے اٹھایا ،میں تو مسکین ہوں اورعلم وعقل کی قدرت کے تحت مسخر ہوں اورمجھے معلوم نہیں کہ کس سبب سے میں اس کے لئے مسخر کیا گیا اوراس کا حکم ماننا مجھ پر لازم ہوا لیکن اتنی بات ضرورجانتا ہوں کہ میں بالکل پرسکون تھا، جب تک یہ آنے والا نہ آیا تھا اور یہی حاکمِ عادل ہے یا ظالم؟ میں اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑاہوں اوراس کی اطاعت کو لازم سمجھتاہوں۔ جب یہ قطعی حکم دے دیتاہے تو مجھے مخالفت کی تاب نہیں رہتی، مجھے میری عمر کی قسم!جب تک وہ خود اپنے دل میں متر دِّد اورحکم میں حیران رہتاہے تو میں خاموش رہتاہوں لیکن اس کے حکم کا منتظر اور چوکس رہتاہوں ۔جب اس کا حکمِ قطعی ہوتاہے تو میں اپنی طبیعت کے مطابق اوراس کے اطاعت کے غلبہ کے تحت مجبور ہوجاتا ہوں اورقدرت کو اٹھاتا ہوں کہ وہ اس کے حکم کے مطابق عمل کرے تو میرے معاملے میں علم سے پوچھو،میں تو شاعر کے اس قول کے مصداق ہوں۔
مَھْمَا تَرَحَّلْتُ عَنْ قَوْمٍ وَقَدْ قَدَرُوْا		أنْ لَا تُفَارِقَھُمْ فَالرَّاحِلُوْنَ ھُمْ
    ترجمہ: جب میں ایک قوم سے کوچ کرجاتاہوں اورانہوں نے فرض کیا تھا کہ ہم ان سے جدا نہیں ہوں گے تو جدا ہونے والے وہ ہیں۔ 

    یہ سن کراس شخص نے کہا:تم نے سچ کہا۔ پھر وہ علم ، عقل اور دل کی طرف متوجہ ہوا اورانہیں جھڑکاکہ انہوں نے ارادے کوکیوں ابھارا اورقدرت کو حرکت دینے پر کیوں مجبور کیا ؟تو عقل نے جواب دیا: میں تو ایک چراغ ہوں، میں خود بخود نہیں جلتی، مجھے روشن کیا جاتاہے۔ دل نے کہا: میں تو ایک تختی ہوں، میں خود بخود نہیں پھیلتی بلکہ مجھے پھیلا یا جاتاہے۔علم نے یوں اظہارِ خیال کیا: میں تو ایک نقش ہوں جو دل کی سفید تختی پر اس وقت نقش کیا جاتاہے جب عقل کا چراغ روشن ہوتاہے، میں خود بخود منتقل نہیں ہوتا، دل کی یہ تختی کافی عرصہ مجھ سے خالی رہی، تم قلم سے میرے بارے میں پوچھو کیونکہ لکھائی تو قلم ہی سے ہوتی ہے ، اس وقت
Flag Counter