ایک شخص نے سیاہی سے کاغذ کا چہرہ سیاہ ہوتا دیکھا تو پوچھا:تیراچہر ہ سیاہ کیسے ہو گیا؟ اس کا کیا سبب ہے؟ کاغذنے جواباً کہا: تو نے اس مطالبہ میں مجھ سے انصاف نہیں کیا،میں نے خود اپنے چہرے کو سیاہ نہیں کیا،بلکہ سیاہی سے پوچھو وہ دوات میں جمع تھی، اس نے اپنے وطن سے سفر اختیار کیا اورظلم وزیادتی کرتے ہوئے میرے چہر ے کے صحن میں اتر آئی۔ اس شخص نے کہا: تم نے سچ کہا۔ پھر اس نے سیاہی سے اس کے متعلق پوچھاتو سیاہی نے جواب دیا: تو نے مجھ سے انصاف نہیں کیا، میں توپختہ عزم کئے دوات میں بیٹھی تھی کہ اس سے نہیں نکلوں گی مگر قلم نے مجھ پرظلم کر کے مجھے بے وطن کردیا، مجھے بکھیرکر سفید کاغذ پر پھیلا دیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو لہٰذامجھ سے سوال کرنے کے بجائے قلم سے پوچھو۔ وہ شخص کہنے لگا: تم نے ٹھیک کہا ۔پھر اس نے قلم سے اس کے ظلم وزیادتی کے بارے میں پوچھا:تم نے سیاہی کو بے وطن کیوں کیا ؟ تو اس نے جواب دیا:ہاتھ اورانگلیوں سے پوچھو، میں تو دریا کے کنارے ایک لکڑی کی صورت میں کھڑا تھا، سرسبزدرختوں کے درمیان خوش وخرم تھا پھر ایک ہاتھ چھری لے کر آیااور میرا چھلکا اتار لیا اورمجھے جڑسے کاٹ کر میرے پورے جداکئے، پھر مجھے تر اشا،میرے سر کو شق کیا اورمجھے روشنائی کی سیاہی میں غوطہ زن کر دیا۔ وہی ہاتھ مجھ سے خدمت لیتاہے اورمجھے سر کے بل چلاتاہے، تم نے سوال کر کے میرے زخموں پر نمک چھڑکا اورمجھ پر عتاب کیا، مجھے چھوڑواوراس سے پوچھو جس نے مجھ پرظلم کیا۔
اس نے کہا: تم نے سچ کہا۔ پھر اس نے ہاتھ سے پوچھا: تم نے قلم پر کیوں ظلم کیا؟اس نے اپنا عذربیان کرتے ہوئے کہا: میں تو گوشت ، خون ، پٹھے اور ہڈی کا مجموعہ ہوں، کیا تم نے کسی جسم کو خود بخود حرکت کرتے دیکھا ہے ؟ میں تو ایک سواری ہوں جو مسخرہے، مجھ پر ایک سوار ہے جسے قدرت اوروقت کہا جاتاہے، وہی مجھے تمام روئے زمین میں دوڑاتاپھراتا ہے، کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ڈھیلے، پتھر اوردرخت کبھی اپنی جگہ سے خود بخود حرکت نہیں کرتے کیونکہ ان پر اس قسم کا مضبوط،غالب اور طاقتورسوار سواری نہیں کررہا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مُردوں کے ہاتھ ان چیزوں میں صورتاًتو مساوی ہوتے ہیں پھر بھی حرکت نہیں کرتے، ہاتھوں اورقلم کے درمیان کوئی معاملہ نہیں اور میری حیثیت یہ ہے کہ میرے اورقلم کے درمیان کوئی معاملہ نہیں، قدرت سے میرے متعلق سوال کرو کیونکہ میں تو سواری ہوں جو مجھ پر سوار ہووہ مجھے حرکت دیتا ہے۔
اس نے کہا: تم نے درست کہا۔ پھر اس نے قدرت سے اس کے معاملہ کے متعلق پوچھاکہ وہ ہاتھ کو کیوں استعمال کرتی ہے اوراس سے کیوں خدمت لیتی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے ملامت وعتاب نہ کرو،بہت سے ملامت کرنے والوں پر خود ملامت کی جاتی ہے اور ملامت کا شکارہونے والے کئی لوگ بے گناہ ہوتے ہیں، تم پر میرا معاملہ کیسے پوشیدہ رہ گیا اورتم نے کیسے گمان کر لیا کہ میں نے ہاتھ پرظلم کیا ہے حالانکہ میں حرکت دینے سے پہلے اس پر سوار تھی ،میں تو اسے حرکت نہیں دے رہی تھی