Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
33 - 415
    حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''علم کثرتِ روایات کا نام نہیں بلکہ یہ ایسا نور ہے جو دلوں میں ڈالاجاتا ہے۔

     بعض محققین نے فرمایا:'' ہم نے غیر خدا کے لئے علم سیکھا لیکن علم نے غیر خدا کے لئے حا صل ہونے سے انکار کردیا، یعنی علم نے ہم سے کنارہ کشی کی اور ہمارے لئے حقیقت واضح نہ ہوئی اور ہم نے اس کے الفاظ ا ور باتیں حاصل کیں۔

    دو سرا اَدب: دنیاوی معاملات میں اپنی مشغولیت کم کرے اور اپنے وطن سے دور رہے تاکہ تحصیلِ علم کے لئے اس کا دل فارغ ہو سکے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی بندے کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اسی لئے کہا گیا ہے: ''علم تجھے اپنا بعض حصہ بھی نہیں دے گا جب تک کہ تو اسے اپنا سب کچھ نہ دے دے ۔''

     تیسرا اَدب: طالب علم اپنے علم پر تکبر نہ کرے اورنہ اپنے استاد پر حکم چلائے بلکہ اپنی لگام اس کے ہاتھ میں دے دے جیسے قریب المرگ مریض دوا کے معاملہ میں اپنااختیار طبیب کو دے دیتا ہے اسے چاہے کہ وہ ہمیشہ استاد کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے جیسا کہ مروی ہے کہ ،

    حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی پھر آپ کے سوار ہونے کے لئے آپ کا خچر قریب لایا گیا تو حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما آ گے بڑھے اور اس کی رکاب پکڑ لی حضرت سیِّدُنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''اے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چچا زاد بھائی! اسے چھوڑ دیں۔'' حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے فرمایا:' 'ہمیں علماء واکابرین کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔'' حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا اورکہا:'' ہمیں اپنے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اہل بیت سے اسی طرح پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔''

    مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے :
''لَیْسَ مِنْ اَخْلاَقِ الْمُؤْمِنِ اَلتَّمَلُّقُ اِلَّا فِیْ طَلَبِ الْعِلْمِ
ترجمہ :مؤمن کے اخلاق میں سے خوشامد کرنا نہیں مگر علم حاصل کرنے کے لئے خوشامد کر سکتا ہے۔''
   (شعب الایمان للبیہقی،باب فی حفظ اللسان ،الحدیث۴۸۶۳،ج۴،ص۲۲۴)
    ایک شاعرنے کہاہے:
اَلْعِلْمُ حَرْبٌ لِلْفَتَی الْمُتَعَالِیْ		کَالسَّیْلِ حَرْبٌ لِلْمَکَانِ الْعَالِیْ
    ترجمہ: علم کو اس نوجوان سے عداوت ہے جو تکبر کرتا ہے جس طرح سیلاب کو بلند مکان سے دشمنی ہوتی ہے۔

    چوتھا اَدب: طالب علم لوگوں کے اختلاف میں غور وخوض کرنے سے احتراز کرے کیونکہ یہ بات اس کی عقل و ذہن کو حیران و
Flag Counter