Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
338 - 415
جا رہا ہو، تو اس کی نگاہ کتاب کے ادراک سے قاصر ہوجاتی ہے، پس وہ قلم کی نوک کو دیکھ کر لکھنا اسی کی طرف منسوب کردیتی ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے کمزور لوگوں کی بصارت۔ لیکن جن لوگوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی توفیق سے مدد فرمائی اوراپنے نور سے ان کے سینوں کو کھول دیا انہوں نے اس سے بڑھ کر مشاہدہ کیا ،کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے حق میں زمین وآسمان کے ہر ذرّے کی زبان کو اس قدرت کے تحت قوت گویائی عطا فرما دی ،جس کے ساتھ ہر چیز بولتی ہے، حتی کہ یہ اپنی مناجات کے ساتھ ہر چیز سے اللہ عَزَّوَجَل کی تسبیح وتقدیس سنتے ہیں نیز وہ تمام اشیاء اپنی عاجزی کی شہادت ایسی زبان کے ساتھ دیتی ہیں جو تیز ہے ،وہ حروف اور آواز کے بغیر گفتگو کرتی ہیں اوراس گفتگو کووہ نہیں سن سکتے جوسننے کی قوت نہیں رکھتے اوراس عالَم میں ہر ذرّہ اربابِ قلوب (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ) کے ساتھ مناجات میں مصروف ہے اوریہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلام کا وہ سمندر ہے جس کی انتہاء نہیں ،جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
قُلۡ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہو۔ (پ16،الکھف:109)

    پس یہ سب ذرَّات اربا بِ قلوب کے سامنے ملکوت کے اسرار بیان کرتے ہیں۔اور رازفاش کرنا بُری عادت ہے، بلکہ (مشہور مقولہ ہے)
''صُدُوْرُ الأحْرَارِ قُبُوْرُ الأسْرَارِ
یعنی آزاد لوگوں کے سینے رازوں کے دفینے ہیں۔''

    کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی شخص بادشاہ کے رازوں کا امین ہو اوروہ لوگوں کے سامنے بادشاہ کے رازوں کو بیان کردے؟اوراگر ہر راز کو ظاہر کرنا جائز ہوتا تو حضور نبئ کریم، رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ ارشاد نہ فرماتے:
لَوْعَلِمْتُمْ مَا أعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا ۔
ترجمہ: اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔
(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی ذرالغفاری، الحدیث ۲۱۵۷۲،ج۸،ص۱۲۱)
    بلکہ حضور سیِّد عالَم، نورِ مجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان رازوں کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے سامنے بیان فرمادیتے تاکہ وہ روئیں اورہنسنے سے باز رہیں ۔ نیزاگررازکوظاہرکرناجائزہوتاتوآپ تقدیر کا راز فاش کرنے سے منع نہ کرتے اورنہ ہی یہ فرماتے: ''جب ستاروں کا ذکر ہوتو خاموش رہو، جب تقدیر کا ذکر ہوتو خاموش رہواورجب میرے صحابۂ کرام کا ذکر ہو توخاموش رہو۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث۱۴۲۷، ج۲، ص۹۶، بتقدمٍ وتأخرٍ)
    اورنہ ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سَیِّدُنا حذیفہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کو بعض رازوں سے خاص فرماتے۔

    اب ہم آپ کو سمجھانے کے لئے ایک مثال ذکر کرتے ہیں، پس ہم کہتے ہیں: نورِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی مشعل سے دیکھنے والے
Flag Counter