Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
337 - 415
سے کثیر ہوسکتی ہے اور ایک اعتبار سے قلیل۔ جس طرح انسان اپنے اجزاء کے اعتبار سے تو کثیر ہے لیکن اپنی حیثیت کے اعتبارسے وہ شخصِ واحد ہی ہے، وہ ایک کو دیکھتے ہیں جس میں کوئی عدد نہیں، اسی طرح خالق اورمخلوق میں سے ہر موجود کے کئی اعتبارات ہیں، ایک اعتبار سے واحد ہے اورمختلف اعتبارات سے کثیر۔مثال کے طور پر انسان کو ہی لے لیجئے اگرچہ یہ مقصد غرض کے مطابق تو نہیں لیکن اس سے اس بات کی آگاہی ہوجاتی ہے کہ یہ ایک اعتبار سے کثیر اورایک اعتبار سے واحد ہے اور اسی بات کی طرف حضرت سَیِّدُنا حسین بن منصور حلاج علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق نے اشارہ فرمایا، جب انہوں نے حضرت سَیِّدُنا خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا کہ وہ اکثر سفر میں رہتے ہیں تو پوچھا:'' آپ کیا کرتے ہیں؟ ''انہوں نے جواب دیا: ''سفر میں رہتاہوں تا کہ توکُّل میں اپنی حالت کو صحیح کر سکوں۔'' توحضرت سَیِّدُنا حسین بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' تو نے اپنے باطن کی تعمیر میں زندگی خرچ کر دی بتاؤ فنا فی التوحیدمیں کہاں ہو؟''

    حضرت سَیِّدُنا خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تیسرے مقام پر فائز تھے توحضرت سَیِّدُنامنصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان سے چوتھے مقام کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔اگر آپ سوال کریں کہ آپ چوتھے مقام کی تشریح نہیں کرسکتے تو تیسرے مقام ہی کی وضاحت کر دیں ؟ تو میں یہ جواب دوں گا:جاننا چاہے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی خالق نہیں اوراس کی اجازت کے بغیر زمین وآسمان کا ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرتا اور فقر، غناء ، موت اورزندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اجازت سے ہے اوروہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ،جس نے اس چیز کا مشاہدہ کیا اورجان لیا کہ اس کے سواکوئی معبود نہیں وہ اس کے علاوہ ہر چیز سے بے پرواہ ہوگیا اورکسی چیز کی طرف نظر نہ کی کیونکہ ہر چیز اس کی قدرت سے مسخر ہے ۔ یہ اسی طرح ہے کہ جب بادشاہ کسی کو معاف کردے، تو وہ شخص قلم و قرطاس(یعنی کاغذ) کی طرف نہیں دیکھے گا اورنہ ان کا شکر اداکریگا، بلکہ وہ کاتب کی طرف دیکھے گا جو بادشاہ ہے اس کا شکریہ ادا کریگا اورجو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ اسباب کی طرف دیکھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو قلم کی طرف دیکھتا اوراس کا شکر اداکرتاہے اور کاغذوسیاہی کی طرف متوجہ ہوتاہے اورجس مُوَحِّد کا ہم نے ذکر کیا ہے اسے بادشاہ کا جمال قلم کو دیکھنے سے مدہوش کردیتاہے یا اس بات سے مدہوش کردیتاہے کہ اس کے دل میں قلم یا سیاہی کا وجود کھٹکے، نہ تو وہ اسے دیکھتا ہے، نہ اسے یادکرتاہے۔

    اگر تم سوال کرو کہ یہ جمادات میں تو ٹھیک ہیں جو کہ مسخر ہیں لیکن اسے اس انسان میں کیسے سمجھا جائے جو بھلائی ، معافی ، عطا کرنے اورمنع کرنے میں خود مختارہے اوریہ بات کیسے سمجھی جائے کہ اصل میں اسی نے یہ سب کچھ کیاہے؟میں جواب دیتا ہوں: اس وقت اکثر لوگوں کے قدم پِھسل جاتے ہیں، البتہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مخلص بندے محفوظ رہتے ہیں ،شیطان کو ان پر کوئی تسلط حاصل نہیں ہوتا، وہ بصیرت کے نور سے مشاہدہ کرتے ہیں کہ کاتب مسخر ومجبور ہے، جس طرح تمام کمزور لوگ دیکھتے ہیں کہ قلم کاتب کے ہاتھ میں مسخر ہوتاہے اس سلسلے میں کمزور لوگوں کو اسی طرح مغالطہ لگتاہے ،جیسے کوئی چیونٹی ایسے کاغذپر چلے جس پر لکھا