(جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الغاشیۃ، الحدیث۳۳۴۱،ص۱۹۹۵)
دوسرا مرتبہ۱س مُوَحِّد کا ہے جو دِل سے کلمہ کے معنی کا اعتقاد رکھتا ہے اوراس میں شک نہیں کرتا لیکن اس کا باطن کشادہ نہیں ۔ اگر وہ اس حالت پر فوت ہوجائے اورگناہوں پر مؤاظبت کی وجہ سے اس کیفیت میں کمزوری پیدا نہ ہوئی ہو، تووہ آخرت کے عذاب سے بچ جائے گا اوربدعتی کا مکر( لوگوں کے دلوں پر لگی ) عقیدہ توحید کی گرہ کوکھولنا ہے جبکہ (علمِ کلام کے ذریعے بدعتی کے مکروفریب سے بچانے والے)متکلم کی تدبیر دل کی گرِہ کو مضبوط کر کے باندھناہے۔
تیسرا مرتبہ اس مُوَحِّد کا ہے، جس کا سینہ اس کے لئے کھول دیا جاتاہے اوروہ کثرتِ اسباب کے باوجود ایک ہی ذات کا مشاہدہ کرتاہے اورجانتا ہے کہ ان اسباب کا صدور اسی وحدہ، لا شریک سے ہی ہے۔
چوتھا مرتبہ اس مُوَحِّد کا ہے جس کے سامنے اور دل میں صرف ایک ذات ہوتی ہے، وہ تمام واسطوں اوراپنے آپ سے بے نیاز ہوتاہے اوریہی حالت سب سے اعلیٰ ہے، یہ اخروٹ کے مغز سے نکلنے والے تیل کی طرح ہے۔
چوتھے مرتبے کے بارے ميں گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہمارا کلام تو تیسرے میں ہے اور یہ وہ مُوَحِّدہے جو ایک ہی ذات کو دیکھتا اورسمجھتا ہے کہ ہر شئے کا صدوراسی ذاتِ واحد سے ہے، پس اس وقت اس کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور سے چمکنے لگتاہے، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ ذیشان ہے:
اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔(پ23،الزمر:22)
اعتراض: جس شخص کا دل نورِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے منور نہ ہو وہ کہتا ہے چوتھے مرتبے والا مُوَحِّد ہرچیز کو ایک کیسے سمجھتا ہے جبکہ وہ زمین وآسمان میں اسباب اور اعداد کی کثرت دیکھتا ہے؟
جواب:جاننا چاہے!ان اسرار کو ظاہر کرنا ممکن نہیں کیونکہ بعض اہلِ معرفت نے فرمایا کہ ربوبیت کے رازوں کو ظاہر کرنا کفر ہے، ہاں! یہ بتانا ممکن ہے کہ کثرت کو عقل سے دیکھنا مشکل ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ایک شئے ایک اعتبار