Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
335 - 415
ترجمۂ کنزالایمان:اوربھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا۔''پڑھاتوارشاد فرمایا:''اس آیت کے بعد کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی سے پناہ لے۔''
حقیقتِ توحید اوراس کے درجات کا بیان

توحیدتَوَکُّلْ کی اصل ہے:
    جاننا چاہے!توحید کے معنی کی وضاحت
''لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ
 (یعنی اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں)''سے ہوتی ہے ا ور قدرت پر ایمان کی ترجمانی ''لَہٗ الْمُلْکُ(یعنی اسی کی بادشاہت ہے)''سے ہوتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جو دوحکمت پر ''وَلَہٗ الْحَمْدُ(یعنی اسی کی لئے تمام خوبیاں ہیں)'' دلالت کرتاہے پس جس شخص کے دل پر اس جملہ کا معنی غالب ہوتو وہ مُتَوَکِّلْ بن جاتاہے ۔ ان تمام کی اصل توحید ہے۔
مراتبِ توحید :
    توحید کے چار مراتب ہیں، اخروٹ کی طرح اس کے چار حصے ہيں، جیسے (۱) مغز (۲) مغزکا مغز (۳) چھلکا اور (۴) چھلکے کا چھلکا۔۱؎

    پہلا مرتبہ: یہ ہے کہ انسان چھلکے کے چھلکے کی طرح صرف اپنی زبان سے '' لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ''کہے، یہ منافقین کا ایمان ہے، ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ 

    دوسرا مرتبہ:یہ ہے کہ انسان دل سے کلمہ کے معنی کی تصدیق کرے اوریہ عام مسلمانوں کا ایمان ہے۔ 

    تیسرا مرتبہ: یہ ہے کہ انسان کشف کے ذریعے ایمان کا مشاہدہ کرے اوریہ مقربین کا مقام ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ وہ کثرتِ اسباب دیکھے لیکن ان سب کو خدائے واحد عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے سمجھے۔

    چوتھا مرتبہ:یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ تعالیٰ کی جستجو میں رہے، یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے، صوفیاء کرام کی اصطلاح میں اسے فَنَا فِی التَّوحِیْدکہتے ہیں اوراس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ باطن کے توحید میں مستغرق ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا، حضرت سَیِّدُنا ابو یزیدعلیہ رحمۃ اللہ المجیدکے فرمان کہ ''مجھے اپنی یاد بھلادی گئی ''سے یہی مراد ہے۔
۱ ؎:امام محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی احیاء علوم الدین میں اس کے بعد تحریر فرماتے ہيں: ''اخروٹ کے اوپر دو چھلکے ہوتے ہیں ، اس کے اندر ایک مغز ہوتا ہے اور اس میں تیل ہوتا ہے جو مغز کا مغز ہے۔ (احیاء علوم الدین،ج۴،ص۳۰۴)
Flag Counter