کرنے کے لئے ترک کرتاہے، تو وہ اس کی طرف کیسے متوجہ ہوگا ؟اوردنیا جوکسی شخص کو صحیح وسلامت حاصل ہوتی ہے آخرت کے مقابلے میں اس کی وہ نسبت بھی نہیں جو ایک لقمے کو دنیوی ملک کے ساتھ حاصل ہے ،کیونکہ جس کی کوئی اِنتہاء ہواسے غیر متناہی چیز سے کوئی نسبت نہیں اوردنیا عنقریب ختم ہونے والی ہے، اگرچہ اس کی عمر لاکھ سال ہو جائے اور وہ کدورتوں سے بالکل صاف ہو جائے پھر بھی اس کا انجام زوال ہی ہے ۔
اے اسلامی بھائی!جب تو نے یہ بات جان لی تویہ بھی جان لو! اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ تم رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس کے سوا ہر چیز سے بے رغبت ہوجاؤ اوریہ چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے دیدار) کی لذت اوراس کے سوا ہر نعمت سے زہد اختیار کرنے کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے۔ پس تمہیں چاہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق کھانا، لباس، نکاح اوررہائش اختیار کرو، جس سے تمہارے بدن کا گزارہ ہو اور تم اپنا دِفاع کر سکو ،یہی حقیقی زہدہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔