زہد کے تین درجات ہیں۔
پہلا درجہ : یہ ہے کہ انسان تکلُّف کے ساتھ دُنیا سے بے رغبتی اختیارکرے اوراپنی خواہشات کے باوجود اسے ترک کرنے کی کوشش کرے، تو ایسا شخص مُتَزَہِّدْہے اور ہو سکتا ہے وہ اس پرمداومت اختیارکرکے زُہد کو پا لے۔
دوسرادرجہ:ـ یہ ہے کہ وہ اپنی خوشی سے دنیاسے بے رغبتی اختیار کرے یعنی وہ جس چیز کی طمع کر رہا ہے اس کی نسبت سے دنیا کو حقیر جانے جیسے کوئی شخص دودراہم کے لئے ایک درہم چھوڑ دیتاہے اوریہ چیزاس پر دشوار نہیں ہوتی لیکن اس کی توجہ دُنیا اور اپنے نفس کی طرف بھی رہتی ہے (یعنی وہ خیال کرتاہے کہ اس نے بڑی اہم چیز کو چھوڑا ہے) اور یہ بھی زہد ہے، لیکن اس میں نقصان کا اندیشہ ہے۔
تیسرا درجہ : سب سے اعلیٰ ہے اور وہ یہ کہ بندہ خوشی سے زہد اختیار کرے اوراپنے زہد میں مبالغہ اختیار کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کوئی چیز نہیں اس کی مثال اس شخص کی ہے، جس نے پتھر کو چھوڑ ا اور موتی لے لیا ،پس وہ اس چیز کو اس کا بدلہ نہیں سمجھتا اوردنیا کی آخرت کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں۔
حضرت سَیِّدُنا ابویزیدعلیہ رحمۃ اللہ الوحیدنے حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ المنّان سے پوچھا:''آپ کس چیز کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں؟'' انہوں نے جواب دیا:''زہد کے بارے میں۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:'' کس چیز میں زہد؟'' جوا ب دیا: ''دنیا میں''(یہ سن کر) حضرت سَیِّدُناابویزیدعلیہ رحمۃ اللہ الوحید نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے فرمایا: ''میرا خیال تھا کہ آپ کسی چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہوں گے ،دنیا توکوئی چیز ہی نہیں جس میں زہد اختیار کيا جائے۔''
اہلِ معرفت اور مشاہدات ومکاشفات سے معمور دل رکھنے والوں کے نزدیک آخرت کے لئے دنیا کو ترک کرنے والے کی مثال اس شخص کی ہے، جو بادشاہ کے دربار میں جاناچاہتاہے ،لیکن دروازے پر موجود کتَّا اسے روک لیتاہے ،وہ اس کے سامنے روٹی کا ایک لقمہ ڈالتاہے تو وہ اس میں مشغول ہو جاتاہے، اور وہ خود دروازے میں داخل ہوجاتاہے اوربادشاہ کا قرب حاصل کرلیتاہے یہاں تک کہ اس کا حکم تمام مملکت میں نافذ ہونے لگتا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ کیا وہ اپنے حاصل کئے ہوئے مقام کے مقابلے میں اس لقمے کو زیادہ اہمیت دے گا ،جو اس نے کتے کے سامنے ڈالا؟شیطان بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دروازے پر ایک کتَّا ہے، جو لوگوں کو داخل ہونے سے روکتاہے ،حالانکہ دروازہ کھلااورپردہ اٹھا ہوا ہے۔اوردنیا روٹی کے ایک لقمے کی طرح ہے، اگر تم اسے کھاؤ تو اس کی لذت صرف چبانے کی حد تک ہے ،پھر نگلتے ہی لذَّت ختم ہوجائے گی، پھر اس کابوجھ معدے میں باقی رہتاہے اور بدبُو کی شکل اختیار کرلیتاہے ،پھر اس بوجھ کو نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔پس جو شخص اسے بادشاہ کا قرب حاصل