Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
330 - 415
(2)وَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿20﴾
ترجمۂ کنزالایمان:جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں اورجو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اورآخرت میں اُس کا کچھ حصہ نہیں۔(پ25،الشورٰی:20)

    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے: ''جو شخص اس حال میں صبح کر ے کہ اُسے دنیا ہی کی فکر ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے کام منتشر کر دیتاہے اوراس کا سامان متفرق کر دیتاہے ،اس کی تنگدستی اس کے سامنے کردیتاہے اوردُنیا تو اسی قدر آئے گی، جو اس کی تقدیر میں لکھی ہے اورجو اس حال میں صبح کرے کہ اس کو آخرت کی فکر ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے کام درست فرمادیتاہے، اس کے سامان کی حفاظت فرماتا اوراس کے دل میں دنیا سے بے رغبتی ڈال دیتاہے نیز اس کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آتی ہے۔''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب الھم بالدنیا، الحدیث۴۱۰۵،ص۲۷۲۶، بتغیرٍ قلیلٍ)
    نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ حکمت نشان ہے: ''جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ اسے خاموشی اوردنیا سے بے رغبتی عطا کی گئی ہے تو اس کے قریب ہوجاؤ کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے۔ ''
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، الحدیث۴۱۰۱،ص۲۷۲۶، بتغیرٍ قلیلٍ)
     سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ محبت نشان ہے:
إنْ أرَدْتَ أنْ یُحِبَّکَ اللہُ فَازْھَدْ فِیْ الدُّنْیَا۔
ترجمہ:اگر تم چاہتے ہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سے محبت کرے تو دنیا میں زُہد اختیار کرو۔
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، الحدیث۴۱۰۲،ص۲۷۲۶، مفھوماً)
    جب حضرت سَیِّدُناحارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہِ رِسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں عرض کی:''میں سچا مؤمن ہوں۔'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا: ''تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟'' انہوں نے عرض کی: ''میں نے اپنے نفس کو دنیا سے علیحدہ کر دیا ہے، پس میرے نزدیک اِس(دُنیا) کا سونا اورپتھر برابر ہیں، گویا میں جنّت اوردوزخ کے مابین ہوں اورگویا میں اپنے رب عَزَّوَجَلّ کے عرش کے پاس کھڑا ہوں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تم نے(ایمان کی حقیقت کو) پہچان لیا، پس اس کو لازِم پکڑنا( پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سَیِّدُنا حارثہ کے متعلق فرمایا)یہ ایسا بندہ ہے جس کے دل کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نورِ ایمان سے منوّر کر دیا۔''
  (الزھد الکبیر للبیھقی، الحدیث۹۷۳،ص۳۵۵،مفھوماً)
Flag Counter