کہ اس کی مقدار معلوم ہو لیکن ا نہوں نے کس طرح اس میں مجہول چیز(یعنی مُٹھی بھر درہم) کو مِلادیا، حالانکہ یہ تو دانا آدمی ہیں؟ لیکن مجھے یہ سوال کرتے ہوئے حیاء محسوس ہوئی اور میں وہ تھیلی لے کر حضرت سَیِّدُنا نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا ،تو انہوں نے بھی ترازو منگوایا اور ایک سودرہم تو لے اور فرمایا: ''یہ ان کے پاس واپس لے جاؤاور کہنا :میں تم سے کچھ بھی قبول نہیں کرتا اور جو سو سے زائد تھے و ہ رکھ لئے۔''راوی کہتے ہیں: ''مجھے ان کے اس عمل سے مزید تعجب ہوا، چنانچہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ''حضرت سَیِّدُنا جنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عقلمند آدمی ہیں،وہ رسی کے دونوں سرے خودہی پکڑنا چاہتے ہیں، انہوں نے ایک سواپنے فائدے کے تو لے، تا کہ آخرت کا ثواب ہو اور ایک مٹھی بلا وزن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ڈال دئیے توجو کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تھا میں نے وہ لے لیا اور جو کچھ انہوں نے اپنے لئے رکھا تھا ،میں نے واپس کردیا۔''راوی فرماتے ہیں:میں نے وہ دراہم حضرت سَیِّدُنا جنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو واپس کر دئیے، توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رونے لگے پھر فرمایا:''انہوں نے اپنا مال لے لیا اور ہمارا مال واپس کردیااور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔''
اے اسلامی بھائی!دیکھ!ہمارے اسلاف کے دل اور احوال کتنے صاف تھے اور ان کے اعمال کس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے خالِص تھے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے دل کو دیکھ لیتا تھا اور زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔