Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
32 - 415
شدید نقصان کا باعث ہے۔ رہا علم نجوم تو اس کی ممانعت حدیث ِ پاک سے ثابت ہے ۔چنانچہ،

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلَّم کافرمان نصیحت بنیادہے :
''اِذَا ذُکِرَتِ النُّجُومُ فَاَمْسِکُوْا
ترجمہ :جب ستاروں کے بارے میں گفتگو ہوتو خاموش رہو ۔''
(المعجم الکبیر ،الحدیث۱۰۴۴۸،ج۱۰،ص۱۹۸)
    اس حدیثِ پاک میں ہمیں علم نجوم کے ذکر پر خاموش رہنے کا حکم دیا گیاہے کیونکہ انسان اسباب پر انحصار کرنے میں دلچسپی لیتا ہے خواہ وہ اسباب ظاہری ہو ں یا خیالی اور شاید اسی وجہ سے وہ حقیقی مسبب ا لاسباب یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہو جاتا ہے۔

    اور علم فلسفہ خلاف شرع امور کی طرف لے جاتا ہے اس لئے نا پسندیدہ ہے اور علم حساب کی مخالفت اور اس کا انکار ممکن نہیں لیکن صرف اسی میں مشغول ہونا اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاناہے اس لئے اسے بقدر حاجت ہی سیکھا جائے اور علم طبیعیات کو بھی بقدر ضرورت سیکھا جائے اور علم نجوم کو سمتوں کے تعین اور سمتِ قبلہ جاننے کے لئے سیکھا جائے۔(وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ)
اُستاذ اور شاگرد کے آداب کا بیان
شاگرد کے آداب:
    طالب علم کے لئے آداب و فرائض تو بہت ہیں لیکن اِنہیں سات ا قسام میں تقسیم کیاجاتاہے۔

    پہلاادب: سب سے پہلے اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک کرے۔چنانچہ،

     تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :
''بُنِیَ الدِّیْنُ عَلَی النَّظَافَۃِ
ترجمہ:دین کی بنیاد طہارت پر ہے۔''
(المجروحین لابی حاتم محمد بن حبان البستی ،باب النون ،الرقم۱۱۱۹،نعیم بن مورع ،ج۲،ص۴۰۱،روایت بالمعنیٰ)
شرحِ حدیث:
    (امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ)''یہاں طہارت سے مراد صرف کپڑوں کا صاف ہونا ہی نہیں بلکہ دل کی صفائی بھی مراد ہے اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان دلیل ہے:
اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ
ترجمۂ کنز الایمان: مشرک نرے ناپاک ہیں۔(پ10 ،التوبہ: 28)

    اس آیتِ مقدَّسہ سے ظاہر ہوا کہ نجاست صرف کپڑوں کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ جب تک باطن خبائث سے پاک نہ ہو اس وقت تک علمِ نافع حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی علم کے نور سے انسان روشنی پاسکتا ہے۔
Flag Counter