Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
328 - 415
وضاحت کی اور اگر سوال ایسی ضرورت یا حاجت کے لئے ہو، جس کے بغیر گزارہ نہیں، تو کوئی حرج نہیں لیکن یہ قربِ خداوندی کے درجے کو کم کردیتا ہے۔

    حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاحکم نے حضرت سَیِّدُنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے دریافت فرمایا:''جب آپ خراسان سے تشریف لائے تو اپنے فقراء دوستوں کو کس حال میں چھوڑا؟'' انہوں نے جواب دیا:''میں نے ان کو اس حال میں چھوڑا، کہ اگر انہیں دِیا جائے تو شکر ادا کرتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو صبر کرتے ہیں۔''جب انہوں نے اِن کا وصف یوں بیان کیا، کہ وہ سوال نہیں کرتے اور ان کی حضرت سَیِّدُناابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس تعریف کی، تو حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان سے فرمایا:'' میں نے تو بلخ کے کتو ں کو اس طر ح چھوڑا ہے؟'' حضرت سَیِّدُناشفیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:'' اے ابو اسحاق ! آپ کے ہاں کے فقراء کس حال میں ہيں؟'' انہوں نے فرمایا:'' ہمارے فقراء کا حال یہ ہے کہ اگر ان کو نہ دیا جائے تو شکر اداکرتے ہیں اوراگر دیا جائے، تو دو سروں کو اپنے اوپر تر جیح دیتے ہیں۔'' حضرت سَیِّدُنا شفیق نے ان کے سرکوبوَسہ دے کر فرمایا:'' یا شیخ !آپ نے سچ فرمایا۔''
خیرخواہی کا انوکھا انداز:
     جاننا چاہے! بعض او قات بعض لوگوں کے ایسے احوال ہوتے ہیں کہ ان کے لئے سوال کرنا سوال نہ کرنے سے زیادہ فضیلت کا باعث ہوتا ہے جیسا کہ منقول ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت سَیِّدُنا ابو الحسین نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کسی جگہ ہاتھ پھیلا کر لوگوں سے مانگتے ہوئے دیکھا،راوی فرماتے ہیں: مجھے یہ بات گراں گزری، پس میں نے حضرت سَیِّدُنا جنیدبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے ارشاد فرمایا:''یہ بات تجھے ناگوار نہ ہو، بے شک حضرت سَیِّدُنا نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ انہی لوگوں کو دینے کے لئے ان سے سوال کرتے ہیں، وہ اُن سے اس لئے سوال کرتے ہیں تا کہ انہیں آخرت میں ثواب ملے اوروہ بغیر کسی کمی کے اجر پائیں گو یا انہوں نے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان کی طرف اشارہ فرمایا:
''یَدُ الْمُعْطِیْ ھِیَ الْعُلْیَا
ترجمہ:دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔''
    (المعجم الکبیر، الحدیث۱۳۸۴،ج۲، ص۸۵)
    بعض علما ء ِکرام یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں:'' دینے والے کے ہاتھ سے مراد مال لینے والے کا ہاتھ ہے کیونکہ اسی (لینے والے ) کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور قدر اسی کی ہے،جوکچھ وہ لیتا ہے اس کی قدر نہیں۔''

    پھر حضرت سَیِّدُناجنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ترازو منگوایا اور ایک سودرہم تولے ،پھر ایک مٹھی مزید درہم لے کر ان میں ملا دئیے اور فرمایا: ''یہ حضرت سَیِّدُنا نوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس لے جاؤ۔''میں نے دِل میں سوچا کہ کسی چیز کو اس لئے تو لا جاتا ہے
Flag Counter