Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
327 - 415
    ضرورت سے زیادہ مال ودولت نقصان دِہ ہے اور ایسے رزق کو رو کے رکھنا اُخروی لحاظ سے نقصان کاباعث ہے جیسا کہ روایات اس بات پر شاہد ہیں۔
سوال کرنے کی ممانعت:
     جاننا چاہے! کئی احادیث سوال کرنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہیں۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، فیضِ گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَھْرِ غِنًی فَإنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ ۔
ترجمہ:جو مالدار ہونے کے با وجو د سوال کرتا ہے ،وہ جہنم کی آگ زیادہ کرتاہے۔
(المعجم الکبیر، الحدیث۵۶۲۰،ج۶،ص۹۶۔۹۷)
سوال کرنے کی اجازت:
    اسی طرح سوال کرنے کی اجازت پردلالت کرنے والی اَحادیث بھی وارِد ہیں۔ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ۔
ترجمہ: سوال کرنے والے کا حق ہے اگر چہ وہ گھوڑے پر آئے ۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ، باب حق السائل، الحدیث۱۶۶۵،ص۱۳۴۷)
    (امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہيں کہ)اگر سوال کرنا مطلقاًجائز نہ ہوتا تو سائل کا حق نہ ہوتا۔ اور سوال کرنے کی اجازت بقد رِ ضرورت وحاجت ہے، لیکن اگر اس سے زائد کا سوال ہو تواس کی بالکل رُخصت(یعنی اجازت) نہیں۔
سائلین کے احوال کا بیان:
    حضرت سَیِّدُنابِشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:فقراء کی تین اقسام ہیں۔

(۱) وہ فقیر جو سوال نہیں کرتا اگر اسے کچھ دیا جائے تب بھی نہیں لیتا، یہ روحانی لوگو ں کے ساتھ اَعْلٰی عِلِیِّیْن میں رہے گا ۔

(۲) وہ فقیر جو مانگتا تو نہیں مگر دیا جائے تو لے لیتا ہے ،یہ مقرب لوگو ں کے ساتھ جنَّتُ الفِرْدَوس میں ہوگا۔

(۳) وہ فقیر جو حاجت کے وقت مانگتا ہے وہ اَصحابِ یَمِین میں سے صدیقین کے ساتھ ہوگا۔

     اس سے فقراء کے پانچوں حالات ظاہر ہو گئے اور وہ چیز بھی واضح ہوگئی، جس کی ہم نے اس باب کی ابتداء میں
Flag Counter