Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
326 - 415
     ایک روایت میں ہے، حضرت سَیِّدُناجبرائیل علیہ السلام نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو سلام بھیجتا ہے اور استفسار فرماتا ہے:'' کیا آپ کو یہ بات پسند ہے کہ میں ان پہاڑوں کو آپ کے لئے سونا بنادو ں اور آپ جہاں بھی ہوں یہ آپ کے ساتھ رہیں؟'' نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کچھ دیر سرِ اقدس جھکائے رکھا پھر فرمایا :'' اے جبریل ! دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ہو اور اسے وہی جمع کرتا ہے جو عقلمند نہ ہو۔'' توجبریل علیہ السلام نے عرض کی: ''اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو قول ثابت پر قائم رکھے۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث۲۴۴۷۳،ج۹،ص۳۴۳۔۳۴۴) 

(مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب ما قالوا فی البکاء من خشیۃ اﷲ، الحدیث۱۸۶،ج۸،ص۳۲۱)
    مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام اپنی سیاحت کے دوران ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو چادر میں لپٹے ہوئے سو رہا تھا، آپ علیہ السلام نے اسے جگایا اور فرمایا: ''اے سونے والے! اٹھ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کر۔'' اس نے عرض کی: ''آپ علیہ السلام مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ میں نے دنیا کو دنیا والوں کے لئے چھوڑدیا ہے۔''آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ''اے میرے دو ست! اگر یہ بات ہے تو سو جاؤ۔'' 

    اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''میں نے جنت میں جھانکا ،تو اس میں اکثر فقراء کو پایا اور جہنم میں جھانکا ،تو اس میں اکثر اُمراء کو پایا۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب فضل الفقر، الحدیث۶۴۴۹،ص۵۴۲، اغنیاء:بدلہ: النساء)
    حضورنبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: '' اے فقراء کے گروہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر دل سے راضی رہو، تب ہی اپنے فقر کا ثواب پاؤگے ورنہ نہیں۔''
 (فردوس الاخبار للدیلمی، باب الیاء، الحدیث۸۲۴۲،ج۲،ص۴۷۵)
 اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا اسماعیل علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طر ف وحی بھیجی ، کہ مجھے شکستہ دِل لوگوں میں تلاش کرو، انہوں نے عرض کی:'' وہ کون ہیں ؟'' فرمایا: ''سچے فقراء۔''

    فقراء کی فضلیت پر احادیث وآثار شاہد ہیں اورمال کمانے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دُعا مانگی:
''اَللّٰھُمَّ اِجْعَلْ قُوْتَ آلِ مُحَمَّدٍ کَفَافاً
 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فی الکفاف والقناعۃ، الحدیث ۲۴۲۷، ص۸۴۳۔۸۴۴) 

(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب التاریخ، باب من صفتہ وأخبارہ، الحدیث۶۳۰۹،ج۸،ص۸۶۔۸۷)
Flag Counter