| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
آئے، آپ نے انہیں تقسیم کردیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دِل میں افطار کے لئے کسی چیز کا خیال تک نہ آیا ،حتیّٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خادمہ نے عرض کی:'' اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہمارے لئے ایک درہم کا گو شت لے لیتیں، تو ہم اس سے روزہ افطار کر لیتے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا:'' اگر تم پہلے یا د دِلادیتی تومیں ایسا ہی کرتی۔''
فقر کی فضیلت:
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ،حضور نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے استفسار فرمایا: ''لوگو ں میں سے بہتر کون ہے؟'' انہوں نے عرض کی:''وہ مال دار شخص جو اپنی جان اور مال میں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق اداکرتا ہے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''یہ شخص اچھاہے لیکن یہ شخص مراد نہیں، صحا بۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! پھر لوگو ں میں سے کون سا شخص سب سے اچھا ہے ؟آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''وہ فقیر جس کو اس کی جدوجہد عطا کی گئی ۔''
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۱۰۶۶۔عبد اﷲ بن دینار، ج۵،ص۳۹۳)
مشہور حدیث ِپاک ہے ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
تَدْخُلُ فُقَرَاءُ اُمَّتِیِ ا لْجَنَّۃَ قَبْلَ أغْنِیَائِہِمْ بِخَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ۔
ترجمہ: میری اُمّت کے فقراء مالدار لوگو ں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔
(جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ماجاء ان فقراء المھاجرین یدخلون ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۳۵۱،ص۱۸۸۸،بتغیرٍ قلیلٍ)
مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو مٹی پر سویا ہو اتھا اور اس کے سر کے نیچے اینٹ تھی ،اس کا چہرہ او ر داڑھی گرد آلود ہو چکی تھی اور اس نے ایک تہبند باندھ رکھا تھا توآپ علیہ السلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! تیرا یہ بندہ دنیامیں ضائع ہوگیا۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی طر ف وحی فرمائی: ''اے عیسیٰ(علیہ السلام )! کیا تم نہیں جانتے کہ جب میں اپنے بندے پر مکمل طور پر نظرِ رحمت فرماتا ہوں تو اس سے تمام دنیا سمیٹ لیتاہوں۔ ''
اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ محبت نشان ہے:''بے شک مجھے دو چیزیں پسند ہیں، جس نے ان سے محبت کی ،اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا ،اس نے مجھ سے بغض رکھا، ایک فقر اور دو سرا جہاد ۔''