Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
324 - 415
باب34 :             زُہد وفقرکا بیان
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللہِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ۔ (پ22، فاطر:15)

    جاننا چاہے! فقیروہ ہے جو اُس چیز کا محتاج ہو جس کاوہ مالک نہ ہو اورتمام لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فقیر ہیں کیونکہ وہ اپنے وجود کو قائم ودائم رکھنے میں اسی کے محتاج ہیں اور ان کے وجود کی ابتداء بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے ہے اور یہ چیز ان کی ملکیت میں نہیں ،بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملکیت میں ہے، وہ غنئ مطلق ہے ۔اب ہم مال کے فقیر کا ذکر کرتے ہیں۔
مال کا فقیر:
    وہ شخص جس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے مال نہ ہو ۔

    اس فقیر کی مختلف حالتیں ہیں۔

    پہلی حالت: جب اس کے پاس مال آئے ،تووہ اسے نا پسند جانے اور اس سے دُور بھاگے، ایسا شخص زاہدہے۔

    دوسری حالت : یہ ہے کہ نہ تو وہ مال سے بھاگے اور نہ اس میں رغبت رکھے، لیکن جب مل جائے تو اسے ناپسند نہ کرے، ایسا شخص راضی رہنے والا ہے۔

    تیسری حالت: مال کے نہ ہونے کے مقابلے میں اس کا پایا جانااسے پسند ہو جب وہ آسانی سے بلا محنت مل جائے، لیکن اس کی طلب میں سر توڑ کوشش نہ کرے۔

    چوتھی حالت : وہ مال کا طالب ہو ،اس میں رغبت رکھتا ہو لیکن عاجز ہونے کی وجہ سے اس کی طلب چھوڑ دے۔

    پانچویں حالت: اس کے پاس جو مال موجود نہ ہو اس کامحتاج ہو جیسے بھوکا شخص جس کے پاس روٹی نہ ہو اور بر ہنہ شخص جس کے پاس اپنے لئے یا اہل وعیال کے لئے کپڑا نہ ہو اور ایسی حالت والا شخص اگر مال کی رغبت نہ رکھے تو یہ عجائب میں سے ہے اور یہی حقیقی زاہدہے۔

    اِن تمام احوال سے اعلیٰ حالت یہ ہے کہ انسان کے نزدیک مال کا ہونا یانہ ہونا برابر ہو،خواہ اس کے پاس مال کم ہویازیادہ، اسے کوئی پر واہ نہ ہو، وہ مال طلب کرنے والے کو محروم نہ رکھے اور نہ ہی اس کی اپنی ضرورت اس کے دل میں کھٹکے جس طرح حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے ميں ہے، کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک لاکھ درہم بطور عطیہ
Flag Counter