ميری ہتھيلی ميں رکھ دے، توآپ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلامکی لغزِش آپ علیہ السلام کی ہتھيلی ميں رکھ دی گئی۔ پس آپ علیہ السلام جب بھی کھانے يا پينے يا کسی دوسرے کام کے لئے ہتھيلی کھولتے تو اسے ديکھ کر روتے۔ راوی فرماتے ہيں: ''آپ علیہ السلام کو پانی کاپيالہ دياجاتا،تو اس کاتہائی حصہ خالی ہوتا، جب آپ علیہ الصلوٰۃو السلام اسے پکڑتے اور اپنی لغزش کو ديکھتے تو اسے ہونٹوں پر نہ رکھتے ،حتی کہ پيالہ آنسوؤں سے بھر جاتا۔''آپ علیہ السلام کے بارے ميں یہ بھی مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے وصال تک آسمان کی طرف سر نہيں اٹھايا۔
آپ علیہ السلام اپنی دعاؤں ميں يوں عرض گزار ہوتے : ''اے ميرے معبود !جب مجھے اپنی خطاياد آتی ہے، توزمين کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوجاتی ہے اور جب ميں تيری رحمت يا د کرتا ہوں، تو ميری رُوح ميری طرف لوٹ آتی ہے، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تيری ذات پاک ہے، ميں تيرے بندوں ميں سے طبيبوں کے پاس گيا،تاکہ وہ میرے گناہوں کا علاج کريں،تو ان ميں سے ہر ايک نے تيری طرف رہنمائی کی، پس تيری رحمت سے مايوس ہونے والوں کے لئے خرابی ہے۔''
حضرت سَیِّدُنا فضيل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں: ''مجھے يہ بات پہنچی ہے کہ ايک دن حضرت سَیِّدُنا داؤد علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی لغزش کو يا د کيا ،تو آپ علیہ الصلوٰۃو السلام چيختے ہوئے ،سر پر ہاتھ رکھ کر پہاڑ وں کی طرف تشريف لے گئے، تو آپ علیہ الصلوٰۃو السلام کے گرد درندے جمع ہوگئے، آپ علیہ الصلوٰۃو السلام نے عاجزِی کرتے ہوئے اِرشاد فرمايا:''جاؤ، مجھے تم سے کوئی غرض نہيں، ميں تو اسے چاہتا ہوں جو اپنی خطاپر روئے اورميرے سامنے روتاہوا آئے ،جوخطاکا ر نہيں اسے لغزشیں کرنے والے داؤد سے کيا کا م ؟'' جب آپ عليہ السلام کو زيادہ رونے سے روکا جاتا، تو آپ عليہ السلام ارشاد فرماتے: ''مجھے رونے دو، اس سے پہلے کہ رونے کا دن چلا جائے، ہڈياں جل جائيں اور آنتيں بھڑک اٹھيں اور اس سے پہلے کہ میرے بارے ميں سخت قسم کے فرشتوں کو حکم دیا جائے، جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کی خلاف ورزی نہيں کرتے اور جس بات کا حکم دِيا جائے وہ بجا لاتے ہيں ۔''
حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبد العزيز رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ جب حضرت سَیِّدُنا داؤد علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام سے لغزِش ہوئی توآپ عليہ السلام کی آواز بدل گئی، آپ عليہ السلا م نے عرض کی:''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !صديقين کی صاف آواز میں ميری آواز بدلی ہوئی ہے۔''
مروی ہے کہ :''جب آپ عليہ السلام کا رونا زيادہ ہوگيا اور اس سے آپ عليہ السلام کو فائدہ نہ ہوا توآپ عليہ السلام نے دل ميں تنگی محسوس کی اور آپ عليہ السلام کاغم زيادہ ہوگيا تو آپ عليہ السلا م نے عرض کی: ''اے ميرے رب عَزَّوَجَلَّ! کيا تجھے ميرے رونے پر رحم نہ آیا؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی طرف وحی بھيجی: ''اے داؤد عليہ السلام!تم اپنی لغزِش بھول گئے اور رونا ياد ہے؟'' آپ نے عرض کی: ''اے ميرے معبود ! اے ميرے سردار !ميں اپنی لغزِش کو کيسے بھول سکتا ہوں جبکہ ميری حالت تو يہ تھی