Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
318 - 415
    يہ سب کچھ عذاب الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے خوف کی وجہ سے تھا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سورۃ الحاقۃ کی ايک آيت کی تلاوت فرمائی تو بے ہوش ہو گئے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ
ترجمۂ کنزالايمان :اور موسیٰ گر ا بے ہوش۔(پ9 ،الاعراف :143)

    مروی ہے :''رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اَبْطَح (کے مقام)پر حضرت سَیِّدُنا جبرائيل عليہ السلام کی صورت ديکھی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بے ہوش ہوگئے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اﷲ بن العباس بن عبد المطلب، الحدیث۲۹۶۷،ج۱،ص۶۹۱،مفہوماً)
    نبئ مکرّم ،رسولِ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ''حضرت جبرائيل عليہ السلام جب بھی ميرے پاس آتے خدائے جبار عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے کانپ رہے ہوتے ۔''
 (العظمۃ لأبی الشیخ الأصبھانی، باب ذکر الموکلین فی السموات والأضین، الحدیث۳۶۵،ص۱۳۱، مفھوماً)
    کہا جاتا ہے کہ جب ابليس لعین پر ظاہر ہوا جو اس پر لازم ہو چکا تھا( یعنی مردود ہونا) تو حضرت سیِّدنا جبرائيل و ميکائيل عليہما السلام رونے لگے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی کرتے ہوئے استفسار فرمایا:'' تم دونوں کيوں روتے ہو ؟'' انہوں نے عرض کی: ''اے ہمارے پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! ہم تيری خفيہ تدبير سے بے خوف نہيں ۔'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمايا: ''تم اسی طرح رہنا اور ميری خفيہ تدبيرسے بے خوف نہ ہونا۔''

    حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہيں:'' حضرت سَیِّدُنا ابراہيم علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام جب نماز کے لئے کھڑ ے ہوتے توخوفِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے ان کے دل کی دھڑکن ايک ميل کے فاصلے سے سنائی ديتی۔''
حضرت سَیِّدُنا داؤد علیہ السلام کا خوف ِخداعزوجل:
    حضرت سَیِّدُنا مجاہد رحمۃاللہ تعالیٰ عليہ فرماتے ہيں کہ حضرت سَیِّدُناداؤد علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام چاليس دن تک حالتِ سجدہ ميں روتے رہے اورسر نہ اٹھا يا ،حتیٰ کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اُگ آئی اور اس نے آپ علیہ الصلوٰۃو السلام کے سر کو ڈھانپ لیا،آپ کوندا دی گئی: ''اے داؤد (عليہ السلام)!کيا تم بھوکے ہو کہ تمہیں کھانا کھلايا جائے ؟يا پياسے ہو کہ پانی پلاياجائے ؟ يا بے لباس ہو توکپڑے پہنائے جائيں؟''ایک چیخ بلند ہوئی اور آپ علیہ السلام کے بدن کی گرمی سے لکڑی جل گئی ،پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام پر توبہ ومغفرت نازل فرمائی ،انہوں نے عرض کی:يااللہ عَزَّوَجَلَّ ! ميری لغزِشوں کو
Flag Counter