کہ جب ميں تورات پڑھتا تو جاری پانی رک جاتا، ہو ا کا چلناتھم جاتا، پرندے ميرے سرپر سايہ کرتے اوروحشی جانور ميرے محراب ميں مجھ سے مانوس ہوتے، اے ميرے معبود عَزَّوَجَلَّ ! اے ميرے سردار !يہ کيسی وحشت ہے جو ميرے اور تيرے درميان حائل ہے؟'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ''اے داؤدعليہ السلام! وہ اطاعت کا اُنس تھا اوریہ لغزش کی وحشت ہے۔''
اے داؤد!آدم(علیہ السلام ) ميری مخلوق ميں سے تھے، ميں نے اُنہیں اپنے دستِ قدرت سے پيدا فرمايا اور ان ميں اپنی روح پھونکی ،اپنے فرشتوں سے ان کو سجدہ کروايا اورانہیں اپنی کرامت کا لباس پہنايا،انہيں اپنے وقار کا تاج پہنايا، انہوں نے تنہائی کی شکايت کی، تو ميں نے اپنی بندی حوّا کو ان کے نکاح ميں ديا، انہیں اپنی جنّت ميں ٹھہرايا، ليکن جب ان سے لغزش ہوئی تو ميں نے انہيں بے لباس کرکے اپنے قرب سے دُور کرديا،اے داؤد(علیہ السلام ) ! مجھے سے سنو اور میں سچ ہی کہتا ہوں:تم نے سوال کیاتو ہم نے تمہیں عطا کیا ، تم سے لغزش ہوئی تو ہم نے تمہیں مہلت دی اور اگر تم ہماری طر ف رجوع کرو گے، تو ہم قبول کریں گے۔''
حضرت سَیِّدُنایحیی بن ابی کثیر علیہ رحمۃا للہ العلیم فرماتے ہیں:'' ہمیں خبر ملی کہ جب حضرت سَیِّدُناداؤد علیہ السلام گریہ وزاری کرنا چاہتے، تو اس سے پہلے سات دن اس طرح گزارتے کہ نہ کھاناکھاتے، نہ پانی پیتے اور نہ اپنی عورتوں کے قریب جاتے، جب ایک دن رہتا، تو ان کے لئے جنگل میں منبر لایا جاتا، پھرآپ علیہ السلام حضرت سَیِّدُنا سیلمان علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کو حکم فرماتے کہ وہ شہروں اور ارد گر د والوں کو ندا دیں،گھنے درختوں اورجنگلوں میں اعلان کریں ۔یہ اعلان سن کر جنگلوں سے درندے آ جاتے، پہاڑوں سے کیڑے مکوڑے، ٹیلوں سے پرندے اور کنواری لڑکیاں اپنے پردو ں سے نکل آتیں اور اس دن تمام لوگ جمع ہوتے۔ حضرت سَیِّدُنا داؤد علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام تشریف لاکر منبرپر بیٹھ جاتے اور بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کے ار د گر د ہوتے،ان کی ہر قسم علیحد ہ طور پر آپ علیہ السلام کو گھیرے ہوتی، حضرت سَیِّدُنا سلیمان علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام آپ علیہ السلام کے سر کے پاس کھڑے ہو جاتے۔ آپ علیہ السلام اپنے رب عَزَّوَجَل کی ثناء شروع کرتے تو لوگ چیخیں مارتے اور دھاڑیں مار مار کرروتے ،پھر آپ علیہ السلام جنت اور دو زخ کا ذکر فرماتے تو کیڑے مکوڑے، وحشی جانور اور درندے مرجاتے پھر آپ علیہ السلام قیامت کی ہولناکیوں کا تذکرہ کرتے اور اپنے آپ پر گریہ و زاری کرتے تو ہر قسم کی مخلوق میں سے ایک گر وہ مرجاتا۔ جب حضرت سَیِّدُنا سلیمان علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام مرنے والوں کی کثرت دیکھتے تو عرض کرتے:'' اے ابّا جان! آپ علیہ السلام نے سننے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور بنی اسرائیل کے کئی لوگ نیزبہت سے وحشی جانور اور کیڑے مکوڑے مر گئے پس آپ علیہ السلام دعا شروع کردیتے۔
آپ علیہ السلام حالت دعا ہی میں ہوتے تو بنی اسرائیل میں سے بعض عبادت گزار پکارتے:''اے داؤد علیہ السلام ! آپ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے جزاء طلب کرنے میں جلدی کی۔''راوی کہتے ہیں:''(یہ سن کر) حضرت سَیِّدُنا داؤد علیہ السلام بے ہوش ہوکرزمین پرتشریف لے آئے ، جب حضرت سَیِّدُنا سلیمان علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام یہ صورتِ حال دیکھتے ،توایک