Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
317 - 415
وَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ۔
ترجمہ: مجھے تمہاری نسبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کازیادہ علم ہے اورتم سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہوں۔''
 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب من لم یواجہ الناس ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۱۰۱،ص۵۱۵، بتغیرٍ قلیلٍ)

(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر وھوجنب، الحدیث۲۵۹۳،ص۸۵۵)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا داؤدعلٰی نبیناوعلیہ الصَّلوٰۃو السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اے داؤد!مجھ سے اس طرح ڈرو جس طرح چيرنے پھاڑنے والے درندے سے ڈرتے ہو۔''

    اور درندے کی حقيقت يہ ہے کہ وہ تجھے ہلاک کردے گا اور کوئی پرواہ نہیں کریگا اوررسولِ اَکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ''جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے ہر چيز اس سے ڈرتی ہے اور جو غيراللہ سے ڈرتا ہے وہ ہر چيز سے ڈرتا ہے ۔ ''
 (شعب الایمان للبیھقی، باب فی الخوف من اﷲ تعالی، الحدیث۹۷۴،ج۱،ص۵۴۱، مفہومًا)
    اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صديقہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہيں، ميں نے عرض کی: ''يارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کيا اس آيت
 وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ
ترجمۂ کنزالايمان: اور وہ جو ديتے ہيں جو کچھ ديں اور ان کے دل ڈر رہے ہيں(پ۱۸،المؤ منون:۶۰)''سے چور اور زانی مراد ہيں؟''تونبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا
لَا بَلْ یَصُوْمُ وَیَتَصَدَّقُ وَیُصَلِّیْ وَیَخَافُ أنْ لَا یَقْبُلَ مِنْہ،۔
ترجمہ:نہيں، بلکہ وہ شخص مراد ہے جو روزہ رکھتا، صدقہ دیتا اورنماز پڑھتا ہے پھر بھی عبادت کے قبول نہ ہونے سے ڈرتا ہے۔
(سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب التوقی علی العمل، الحدیث۴۱۹۸،ص۲۷۳۲)
    نبئ رحمت،شفیعِ اُمّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے: ''جس بندۂ مؤمن کی آنکھوں سے خوفِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے آنسو نکلتے ہیں ،وہ اگر چہ مکھی کے سر کے برابر ہو پھر اسے ان کے نکلتے وقت کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جہنم کی آگ پر حرام فرماديتا ہے۔''
 (سنن ابن ماجۃ، ابواب الزھد، باب الحزن والبکاء، الحدیث۴۱۹۷،ص۲۷۳۲)
انبياء کرام علیہم السّلام کا خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ:
    ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے:'' جب ہو اميں تبديلی ہوتی اور سخت آندھی چلتی تو نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چہرۂ انور کا رنگ متغيرہوجا تااور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کھڑے ہو جاتے اور حجرۂ مبارکہ ميں چکر لگاتے ،کبھی اندر جاتے کبھی باہر تشريف لاتے۔''
 (صحیح مسلم، کتاب الکسوف، باب التعوذ عند رؤیۃ الریح، الحدیث۲۰۸۴/۲۰۸۵/۲۰۸۶،ص ۸۱۸)
Flag Counter