Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
316 - 415
آگاہ رہو!اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بڑھ کر کوئی کريم نہيں، وہ سب کريموں سے بڑھ کرکريم ہے۔'' پھر فرمايا: ''یہ حقیقت اعرابی سمجھ گيا۔
(شعب الایمان للبیھقی ،باب فی حشر الناس ،الحدیث:۲۶۲،ج۱،ص۲۴۶۔۲۴۷،مختصرًا)
    اورتاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
سَبَقَتَ رَحْمَتِیْ غَضَبِیْ۔
ترجمہ: ميری رحمت ميرے غضب پر سبقت لے گئی۔
(صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اﷲ تعالی وأنھا تغلب غضبہ، الحدیث۵۹۷۰،ص۱۱۵۵)
خوف کا بيان:
    جاننا چاہے!خوف اور اُميد دو لگا ميں ہيں جن کے ذريعے اس شخص کو قابو کیاجاتا ہے جس کے دل میں جمالِ حق ظاہر نہ ہوا ہو اور جس نے دل کے ساتھ اس جمالِ حق کا مشاہدہ کرلیا ،وہ خوف ورجاء سے بلند ہو گیا۔

    حضرت سَیِّدُنا واسطی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا: ''خوف اللہ عَزَّوَجَلَّ اور بندے کے درميان حجاب ہے اور جب دِلوں پر حق ظاہر ہوجائے تو اُن ميں اُميد وخوف کی کوئی فضيلت باقی نہيں رہتی۔''

    خلاصۂ کلام يہ ہے ،کہ جب محب محبوب کے جمال کو حاصل کرلیتا ہے تواُس کی توجّہ فراق کے خوف سے محبوب کے وِصال کو ضائع کرديتی ہے، ليکن ہم اس وقت مقامات کی ابتداء کے بارے ميں گفتگوکررہے ہيں، اس لئے ہم کہتے ہيں کہ اپنے اوپر خوف طاری کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ انسان شدّتِ عذاب وحساب کے بارے ميں وارِد ہونے والی آياتِ کریمہ اوراحاديث مبارکہ ميں غور وفکرکرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وجلال کے مقابلہ ميں اپنی حالت دیکھے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں غور کرے،(جیسا کہ حدیث ِ قدسی ہے)
ھٰؤُلَاءِ فِیْ الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ، ھٰؤُلَاءِ فِیْ النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔
ترجمہ:وہ جنّت ميں ہوں تب بھی مجھے پرواہ نہيں اور وہ دوزخ ميں ہوں پھر بھی مجھے کوئی پرواہ نہيں۔
 (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبد الرحمٰن بن قتادۃ السلمی، الحدیث۱۷۶۷۶،ج۶،ص۲۰۵۔۲۰۶)
    اور وہ جان لے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکام کو ترک کرنے اور اس کے نواہی کا ارتکاب کرنے سے وہ درد ناک عذاب کا مستحق ہوگا،اوراگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام جہانوں کو ہلاک کردے تو پھربھی اسے کوئی پرواہ نہيں اور اس مسکين نے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کيا ہے تو يہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کا زيادہ مستحق ہے، اگر اسے ہلاک کر ديا گيا تو اس کی پرواہ نہيں کی جائے گی اور اس کی کيا حيثيت؟ جبکہ تمام رسو لوں کے سردار،شفیعِ روزشُمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:
'' أنَا أعْلَمُکُمْ بِاللہِ
Flag Counter