ترجمۂ کنزالايمان:اور فرشتے اپنے رب کی تعريف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمين والوں کے لئے معافی مانگتے ہيں۔(پ25،الشورٰی:5)
(3) مِّنۡ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ؕ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ
ترجمۂ کنزالايمان : ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہيں اور ان کے نيچے پہاڑ۔ اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو۔ (23،الزمر:16)
اس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے واضح فرمایا کہ وہ ایمان والوں کو ڈراتا ہے مگر یہ (عذاب)کا فروں کے لئے ہے کیونکہ یہ انہی کے لئے پيد ا کیا گیاہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ۔کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دوعالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے:
أُمَّتِیْ أُمَّۃٌ مَّرْحُوْمَۃٌ لَا عَذَابَ عَلَيْھَا فِیْ الْآخِرَۃِ۔
ترجمہ:ميری امت، امتِ مرحومہ ہے اس پر آخرت ميں کوئی عذاب نہيں۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، باب مایرجی فی القتل، الحدیث۴۲۷۸،ص۱۵۳۴)
اس موضوع پر بے شمار آيات واحاديث وارِد ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طويل حديث ميں یہ مضمون ہے کہ ايک اعرابی نے عرض کی: '' يا رسو ل اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !بروزِقيامت مخلوق کا حساب کون لے گا ؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرما يا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔'' اس نے پو چھا:''کیا وہ خود حساب لے گا؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمايا: ''ہاں۔'' (يہ سن کر)اعرابی ہنس پڑا، تو پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا: ''اے اعرابی! کس وجہ سے ہنسے ہو ؟'' اس نے عرض کی:
''إنَّ الْکَرِیْمَ إذَا قَدَرَ عَفَا وَإذَا حَاسَبَ سَامَحَ
ترجمہ: بے شک کريم جب قدرت پاتا ہے تو معاف کردیتا ہے اور جب حساب ليتا ہے تو بھی درگزر فرماتا ہے۔'' توشفیق آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ''اعرابی نے سچ کہا،